جموں میں دن کا کرفیو ہٹا، معمول کی زندگی بحال، تعلیمی ادارے بھی کھلے،انٹرنیٹ سروس بحال ، بازاروں میں رونق لوٹ آئی

سرینگر : سرمائی راجدھانی میں جمعرات کو دن کا کرفیو مکمل طور پر ہٹایا گیا ہے جبکہ صوبہ کے کئی حساس علاقوں میں دفعہ144کا نفاذ لگاتار رہے گا جس کے تحت چار سے زیادہ افرادکو ایک جگہ جمع ہونے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ ادھر جموں میں انٹرنیٹ سہولیات کو بھی بحال کیا گیا ہے البتہ ابتدائی طور پر 2جی رفتار پر ہی سروس بحال ہے ۔ جبکہ تعلیمی ادارے بھی آج کھل گئے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق لیتہ پورہ حملہ کے بعد صوبہ جموں میں کشمیریو اور مسلمانوں کے خلاف احتجاج اور ان کی جائیداد کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کا زدکوب کرنے اور تشدد آمیز وقعات رونماء ہونے کے بعد انتظامیہ نے جموں میں کرفیوں کا نفاذ عمل میں لایا تھا اور آج جمعرات کو جموں کے اہم علاقوں سے دن کا کرفیو مکمل طو رپر ہٹایا گیا ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ حکام نے جمعرات کو جموں شہر میں نافذ دن کا کرفیو ہٹادیا جس کے بعد سرمائی دارالحکومت میں معمول کی زندگی بحال ہوگئی۔جموں میں 14فروری کے لیتہ پورہ، پلوامہ حملے کے بعد پْر تشدد مظاہرے بھڑک اْٹھے تھے جس کے بعد وہاں کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق آج جب جموں میں دن کا کرفیو پوری طرح ہٹایا گیا تو کم و بیش ایک ہفتے بعدسکول بھی کھل گئے اور سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ بھی چلنے لگا۔شہر میں تاہم سبھی کالیج اوریونیورسٹی بند ہیں اور امتحامات بھی ملتوی کئے گئے ہیں۔اس سے پہلے ضلع مجسٹریٹ جموں،رمیش کمار نے جموں شہر سے صبح سات بجے سے شام چھ بجے تک ، گیارہ گھنٹوں کیلئے کرفیو ہٹانے کا اعلان کیا۔تاہم حکام کے مطابق شہر میں امن و قانون بنائے رکھنے کیلئے امتناعی احکامات بدستور نافذ رہیں گے۔ اس دوران شہر میں ٹو۔جی موبائیل انٹرنیٹ سہولیات بھی بحال کی گئی ہیں۔

Comments are closed.