مجلس اتحاد ملت جموں وکشمیر کا ہنگامی اجلاس منعقد، سکھ برادری کا رول قابل سراہنا، خصوصی پوزیشن پر حملہ ناقابل قبول

سرینگر: مجلس اتحاد ملت جموں وکشمیر جو ریاست کے مقتدر دینی جماعتوں جماعت اسلامی ، جمعیت اہل حدیث،انجمن تبلیغ الاسلام ، اسلامی اسٹیڈی سرکل، انجمن شرعی شیعیان، دعوۃ الحق ترال، جمعیت ہمدانیہ کے علاوہ مقتدر دینی شخصیات جن میں مفتی ناصر الاسلام، غلام علی گلزار ، مولوی طیب کاملی پر مشتمل ہیں کی رابطہ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس سلفیہ انسٹی چوٹ پرے پورہ میں زیر صدارت سیکرٹری جنرل ایڈوکیٹ زاہد علی منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں ارکان رابطہ کمیٹی مولانا ڈاکٹر عبدالطیف الکندی، میر غلام حسن اور غلام محمد ناگو نے شرکت کی۔ اجلاس میں صدر مجلس اتحاد ملت مفتی اعظم مفتی محمد بشیر الدین فاروقی کی رحلت پر انہیں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا اور اُن کی دینی خدمات کو سراہا گیا۔نیز مرحوم کے جملہ لواحقین علی الخصوص مفتی ناصر الاسلام کے ساتھ دکھ کی اس گھڑی میں مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔اجلاس میں مفتی اعظم کی وفات سے کرسئ صدارت خالی ہونے کے اہم معاملے کو زیر غور لایا گیا اور دستور مجلس کی روشنی میں موجودہ نائب صدر مولانا غلام محمد بٹ المدنی (صدر جمعیت اہلحدیث) کوقائم مقام صدر مجلس اتحاد ملت جموں وکشمیر ہونے کااستحاق حاصل ہے۔ مجلس اتحاد کے نئے صدر کے باضابطہ انتخاب تک مولانا غلام محمد بٹ المدنی ہی قائم مقام صدر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیں گے۔ صدر کے انتخاب کے لیے مجلس اتحاد سے وابستہ اکائیوں کے سربراہان و نمائندوں کا ایک اجلاس بہت جلد منعقد کرنے کا بھی فیصلہ لیا گیا۔ اجلاس میں ریاست کی موجودہ مجموعی صورتحال کو بھی زیر غور لایا گیا اور بیرون وادی کشمیری طلبا و تاجران کو فرقہ پرست قوتوں کے ہاتھوں ہراساں اور خوفزدہ کرنے علاوہ اُن کے مال و جان کو نقصان پہنچانے کی کارروائیوں کی کڑی مذمت کرتے ہوئے ان فرقہ پرست قوتوں کو خبردار کیا گیا کہ اگر یہ سلسلہ فوری طور پر بند نہ کیا گیا تو اس کے نتیجے میں جو سنگین صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے اس کی ساری ذمہ داری بھارت کی موجودہ حکومت، ریاست کی موجودہ انتظامیہ کے علاوہ فرقہ پرست قوتوں پر عائد ہوگی۔اجلاس میں غیر مسلم برادری سے تعلق رکھنے والے ان انسانیت نواز افراد اور اداروں کا شکریہ ادا کیا گیا جنہوں نے اس نازک صورتحال میں کشمیری طلبا ، تاجران و دیگر سیاحوں کو تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ اُن کی بنیادی ضروریات بھی بہم پہنچائی۔ اس سلسلے میں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے مذہبی شخصیات و دیگر اداروں علی الخصوص گردوواروں نے جو رول اد اکیا وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔اجلاس میں ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو زک پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو ناقابل قبول قرار دیا گیا اوراس سلسلے میں یہ طے پایا کہ عوام کی نمائندہ قیادت کی طرف سے اس حوالے سے جو بھی پروگرام سامنے آئیگا ، مجلس اتحاد ملت وسیع تر عوامی مفاد کے پیش نظر اس کی مکمل حمایت کرنے کی وعدہ بند ہے۔نیز اجلاس میں ملت اسلامیہ جموں وکشمیر سے وابستہ ہر طبقہ فکر و مسلک سے اپیل کی گئی کہ مسلکی اور فروعی مسائل کی آڑ میں ایک دوسرے کی مخالفت اور فتوے بازی سے اجتناب کریں اور اتحاد ملت کے حوالے سے ایک مثبت رول ادا کریں تاکہ قرونِ اولیٰ کے طرز پر اہل ایمان کے درمیان اخوت کا ماحول بنانے میں مدد ملے۔ اسی طرح دین دشمن عناصر کی کارستانیوں سے بھی باخبر رہنے کی اشد ضرورت ہے جو مسلمانوں کے اندر دین بیزار نظریات و اعمال کو عام کرنے کی درپردہ مذموم کوششوں میں سرگرم ہیں۔

Comments are closed.