ویڈیو: سیکورٹی ہٹانے کے فیصلے کو واپس نہ لیا گیا تو نیشنل کانفرنس عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی: عمر عبداللہ

سرینگر: سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مین اسٹریم سیاست دانوں سے سیکورٹی ہٹانے کے فیصلے کو واپس نہ لیا گیا تو اْن کی پارٹی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔ سی این ایس کے مطابق عمر عبداللہ نے کئی ٹویٹ پیغامات میں گورنر انتظامیہ کے مذکورہ فیصلے پر سوال اْٹھاتے ہوئے لکھاکہ میں جموں کشمیر کے گورنر پر زور دیتا ہوں کہ وہ مین اسٹریم سیاست دانوں سے سیکورٹی ہٹانے کا فیصلے واپس لیں۔انہوں نے سیکورٹی ہٹانے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ریاستی و مرکزی سراغرساں اداروں کی اطلاعات کو خاطر میں لائے بغیر لیا گیا ہے اور اس کے سیاسی مقاصد ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ فیصلہ واپس نہیں لیا گیا تو وہ اس کیخلاف عدالت سے رجوع کریں گے حالانکہ جن سیاست دانوں یا عہدیداروں سے سیکورٹی واپس لے لی گئی ہے اْن میں اْن کی پارٹی کا کوئی شامل نہیں ہے ۔ خیال رہے کہ انتظا میہ نے گذشتہ رات دیر گئے اٹھارہ علیحدگی پسند لیڈران کی سرکاری سیکورٹی واپس لینے کا اعلان کیا۔ان لیڈران میں حریت کانفرنس (گ) کے چیئر مین سید علی گیلانی، اسی حریت دھڑے کے آغا سید حسن، لبریشن فرنٹ چیئر مین محمد یاسین ملک، حریت (ع) کے مولانا عباس انصاری، مسرور عباس،سید سلیم گیلانی، محمد مصدق،مختار احمد وازہ ، ظفر اکبر بٹ محبوس محبوس نعیم خان اور شاہد الاسلام اور غیر معروف فاروق احمد کچلو ، عبد الغنی شاہ (ڈوڈہ)، اور آغا اْبولحسین (بڈگام)شامل ہیں۔سرکار نے حال ہی میں نوکری سے مستعفی ہوئے سابق آئی اے ایس آفیسر،شاہ فیصل اور’’ وحید پرے ‘‘کی سرکاری سیکورٹی بھی واپس لی ہے۔ وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق ایسا محسوس کیا گیا کہ علیحدگی پسند لیڈروں کو تحفظ مہیا کرایا جانا ریاست کے وسائل کی بربادی ہے، انہیں اچھے کاموں پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔ترجمان کے مطابق ایسا کرنے سے پولیس کو ایک ہزار سے زائد سیکورٹی فورس اور کم از کم سو گاڑی مشغول تھیں جنہیں سیکورٹی کے باقاعدہ کاموں میں لگایا جائے گا۔

Comments are closed.