سعودی عرب کی جانب سے ہندوستانی مسلمانوں کیلئے حج کوٹا میں اضافہ ،وزیراعظم اور سعودی شہزادے کے مابین ہوئی اہم میٹنگ کے بعد فیصلہ لیا گیا

سرینگر: سعودی عرب نے ہندوستانی مسلمانوں کیلئے حج کوٹا میں اضافہ کرنے کی حامی بھرلی ہے ۔ وزیراعظم نریندرمودی کی سعودی عرب کے شہزادہ اورولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس میٹنگ میں سشما سوراج اورمختارعباس نقوی بھی موجود تھے۔مودی حکومت نیہندوستانی عازمین حج کو بڑا تحفہ دیا ہے۔ کیونکہ حج کوٹہ میں اضافہ کئے جانے کی خبرآرہی ہے۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ہندوستان کے حج کوٹے میں اضافہ کردیا گیا ہے اوراب یہ تعداد دولاکھ کردی گئی ہے۔ اس طرح سے اب دولاکھ عازمین سفرحج پرجائیں گے۔ کوٹے میں اضافہ کے بعد سب سے زیادہ فائدہ ان لوگوں کوہوگا، جنہوں نے درخواستیں دی تھیں اورانہیں منظوری نہیں ملی تھی۔ اس طرح سے اب تقریباً تمام عازمین سفرحج کے لئے روانہ ہونے کا راستہ واضح ہوگیا ہے اور آئندہ برسوں میں بھی اس کا فائدہ ہوگا۔سی این آئی کے مطابق مطابق وزیراعظم نریندرمودی کی سعودی عرب کے شہزادے اورولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس میٹنگ کے وقت وزیرخارجہ سشما سوراج اورمرکزی وزیربرائے اقلیتی امورمختارعباس نقوی بھی موجود تھے۔ حکومت کی جانب سے اس فیصلے کے بعد خوشی کی لہردیکھنے کومل رہی ہے۔ وزیراعظم مودی کا شکریہ بھی ادا کیا جارہا ہے۔ قابل غورہے کہ مختارعباس نقوی کے اقلیتی امورکی وزارت میں رہتے ہوئے مسلسل تیسری بارحج کوٹہ میں اضافہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ وزیراعظم نریندرمودی کی قیادت والی سرکارنے ہندوستانی عازمین کے کوٹے میں لگاتاردو سال اضافہ کرایا تھا اوراب یہ تیسرا موقع ہوگا۔ آزادی کے بعد سے پہلی بارگزشتہ سال ایک لاکھ 75 ہزار25 ہندوستانی عازمین حج 2018 میں حج کے مقدس فریضے کی ادائیگی کے لئے سفرحج کرچکے ہیں اوراگراس سال اضافہ نافذ کیا جاتا ہے، تو پھریہ تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔ گزشتہ سال ہندوستان اورسعودی عرب کے درمیان 2018 کے حج پردستخط کئے جانے والے معاہدے پردستخط ہونے کے بعد نافذ کیا گیا تھا۔ اس وقت مختارعباس نقوی نے اس سلسلے میں کہا تھا کہ اب سے تین سال قبل ہندوستان کا حج کوٹہ ایک لاکھ 36 ہزار20 تھا جس میں گزشتہ دو برسوں کے دوران ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ اس ریکارڈ اضافے کے ساتھ یہ کوٹہ ایک لاکھ 75 ہزار 25 افراد تک پہنچ گیا ہے۔ تاہم اب یہ کوٹہ دو لاکھ ہوجانے کی خبرہے۔

Comments are closed.