پیٹرول بم حملہ۔خوف وہراس کی لہر جاری۔ دہرادون سمیت متعدد کالیجوں کے باہر کشمیریوں کے خلاف احتجاج
سرینگر: جموں میں چارروز کے بعد کرفیو میں تین گھنٹوں کی ڈھیل دی گئی۔ ادھرتوپ شیر خوانی میں سیول سیکریٹریٹ ملازمین کے رہائشی کوارٹروں پر دوران شب پیٹرول بم حملہ کیاگیا ۔ ادھر دہرادون سمیت متعدد کالیجوں کے باہر مقامی طالب علموں کی انجمنوں نے کشمیریوں کیخلاف مظاہرے کئے۔ادھرضلع سہارنپور میں واقع دارالعلوم دیوبند میں زیر تعلیم کشمیری طلبا کو مقامی بجرنگ دل نے دیوبند چھوڑنے کی دھمکی دی ہے۔سی این ایس کے مطابق چار روز تک کرفیو کے بعد انتظامیہ نے پیر کے روز ساتھ جموں میں دوپہر دو بجے سے شام پانچ بجے تک کرفیو میں نرمی کا اعلان کیاگیا۔ڈپتی کمشنر جموں نے بتایاکہ جموں کے گاندھی نگر، چھنی ہمت، ترکوٹہ نگر، ستواری اور سینک کالونی پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں دوپہر دو بجے سے شام پانچ بجے تک کرفیو میں نرمی دی گئی۔اہم انہوں نے کہا کہ پورے ضلع جموں میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی جاری رہے گی۔ جموں شہر میں چارروز قبل توڑ پھوڑ اور کشمیری گاڑیوں کو نقصان پہنچا نے کل عمل شروع ہوا جس کے بعد شہر میں سخت کرفیو کا نفا ز عمل میں لایا گیا اور فوج نے شہر میں فلیگ مارچ کیاتھا۔ شہر میں آ ج چوتھویں روز بھی کرفیو کا نفاذ رہااور فوج کے ساتھ ساتھ دیگر فورسز کی خدمات بھی حاصل کی گئیں تھیں۔ حکام نے چوتھویں روز احتیاطی طور پر انٹرنیٹ خدمات کو بدستور معطل رکھاہواہے جبکہ براڈ بینڈ سروسز کی سپیڈ بھی کم کردی گئی۔ ادھر دہلی ، راجھستان اور دیگر شہروں میں اس صورتحال سے جموں میں مقیم مقامی و غیر مقامی مسلمانوں میں شدید خوف و ہراس پایاجارہاہے اور وہ خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ان کشمیر کو گھر لوٹنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ادھرتوپ شیر خوانی میں سیول سیکریٹریٹ ملازمین کے رہائشی کوارٹروں پر پیٹرول بم حملہ کیاگیا۔ان ملازمین نے سی این ایس کو فون کر کے بتایا کہ پیٹرول حملے کے بعد گورنمنٹ کوارٹروں میں رہا ش پذ یر کشمیر یوں کے اہلخا نہ سہم گئے ۔ کشمیر ی ملازمین نے الزام عائد کیا کہ یہاں تعینات پولیس اہلکار خا موشی تماشی بن بیٹھے اور انہوں نے حملہ آ وروں کو روکنے کیلئے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حملہ کے بعد ان کے جان کو خطر ہ لاحق ہو گیا ہے۔ سکریٹر یٹ ایمپلائز یونین کے صدر غلام رسو ل نے سی این ایس کو بتایا کہ پیٹرول بم حملے کے بعد ملازمین خوف ودہشت کی لہردوڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ملازمین کوہدایت دی ہے کہ وہ پولیس پر کو ئی بھروسہ نہیں رکھیں اور اپنی آ پ کی حفا ظت خود کریں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر چہ آ ج سکریٹر یٹ ملازمین کیلئے بسیں دستیاب رکھی گئی ہیں تاہم کوئی بھی ملازم ان میں سوار نہیں ہوا اور خالی لوٹ گئیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سر کا ر سے اپیل کی کہ وہ ہمیں سرینگر کیلئے بس سروس فراہم کریں تاکہ وہ اپنے عیا ل کو سرینگر روانہ کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں نام کا کرفیو لگا ہے اگر یہ کر فیو ہے تو جلسے جلوس کہاں سے برآ مد ہوتے ہیں۔دریں اثناء جنوبی کشمیر کے لیتہ پورہ میں حالیہ جنگجوؤں کے خود کش حملے کے پس منظر میں بھارت کی دیگر ریاستوں میں مقیم کشمیری انتہائی خوف وہراس میں مبتلا ہے جس کی وجہ سے ان کے لواحقین میں زبردست تشویش لاحق ہے۔۔ادھرڈی اے وی ، پی جی کالیج دہرادون سمیت متعدد کالیجوں کے باہر مقامی طالب علموں کی انجمنوں نے کشمیریوں کیخلاف مظاہرے کئے۔ان مظاہروں کے بعد بابا فرید انسٹی چیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پرنسپل نے طالب علموں کی انجمنوں کو تحریری طور یقین دلایا کہ اگر کوئی کشمیری طالب علم ’’ملک دشمن‘‘سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا تو اْسے کالیج سے نکال دیا جائے گا نیز آنے والے سیشن میں کسی بھی کشمیری طالب علم کو داخلہ فراہم نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح کا فیصلہ شہر کے ایک اور کالیج نے بھی لیا ہے۔دہرادون کے دو کالجوں نے سوموار کو اعلان کیا کہ وہ آئندہ کسی بھی کشمیری طالب علم کو داخلہ فراہم نہیں کریں گے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دھمکیاں ملنے اور خوف و دہشت کا شکار ہونے کے بعد متعدد کشمیری طالب علموں نے دہرادون شہر کو وقتی طور الوداع کیا ہے
Comments are closed.