جس دن بھی35A سے متعلق شنوائی ہوگی اُس دن ہڑتال کی جائے: مزاحمتی قیادت

اس قانون میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑکس بھی صورت میں برداشت نہیں

سرینگر: مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی ، میرواعظ ڈاکٹرمولوی محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے اپنے مشترکہ بیان میں ر یاست جموں کشمیر کے مستقل اور پشتینی باشندگی قانون 35Aسے متعلق ہندوستان کی سپریم کورٹ میں19 ، 20 اور21 فروری ہو رہی ممکنہ شنوائی کے پیش نظر کشمیری عوام سے کہا ہے کہ قائدین اس ضمن میں بار ایسوسی ایشن کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے اور شنوائی کی حتمی تاریخ کا پتہ چونکہ ایک دن پہلے شام کے 7 بجے تک معلوم ہوجاتی ہے لہذا جس دن بھی35A سے متعلق شنوائی ہوگی وہ اُس دن مکمل احتجاجی ہڑتال کر کے اپنی اس موقف کو واضح کریں کہ مستقل باشندگی کے قانون کیساتھ کسی بھی چھیڑ چھاڑ کو برداشت نہیں کیا جائیگا کیونکہ درحقیقت یہاں مستقل باشندگی کے قانون کو ختم کرنے کی شرارت آمیز کوشش کے پیچھے ریاست جموں کشمیر میں غیر ریاستی باشندوں کو بسا کرکے یہاں کے آبادی کے تناسب کوبگاڑنے کا مقصد کار فرما ہے تاکہ اس تنازع کی ہیئت و حیثیت کو تبدیل کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ اس قانون میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑکس بھی صورت میں برداشت نہیں کی جائیگی کیونکہ یہ قانون ہم سب کیلئے بحثیت قوم کے بقاء کی بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔قائدین نے کہا ہے کہ یہ قانون ریاست جموں کشمیر کی متنازعہ حیثیت کیساتھ براہ راست وابستہ ہے کیونکہ ریاست کا اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کے حوالے سے پیدائشی حق یعنی حق خود ارادیت کا استعمال ابھی باقی ہے اور اقوام متحدہ نے ریاست کے عوام کو بحثیت قوم کے اپنا مستقبل طے کرنے کیلئے اس حق کی گارنٹی دی ہے۔قائدین نے کہا ہے کہ جموں کشمیر کے عوام نے گذشتہ سال بھی یک زبان ہو کر نئی دہلی کو یہ واضح پیغام بھیجا ہے کہ وہ ان کیخلاف رچائی جارہی ان سازشوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دینگے اور وہ آج بھی اپنے اس موقف پر چٹان کی طرح قائم ہیں۔یہاں پائی جانے والی موجودہ صورتحال جس میں ریاست کے عوام کا وجود ہی خطر ہ سے دوچار ہے پر اظہار خیال کرتے ہوئے قائدین نے کہا کہ گذشتہ70 برسوں خاص کر گذشتہ 30 برسوں سے جموں کشمیر کے عوام ان پر اُس وقت کی ہند نواز کشمیری قیادت کی طرف سے ٹھونسے گئے ہندوستان کے ساتھ مشروط الحاق کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور اس کے بعد مختلف مواقع پر کشمیر کی تمام ہند نواز جماعتوں نے مشروط الحاق کو نئی دہلی کی منشاء کے مطابق بنانے میں بحثیت آلہ کار ان کا ساتھ دیا اور محض اقتدار کیلئے الحاق کی شرطوں کو کھوکھلا کرنے کے جرم میں شامل رہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ہمارا وجود ہی خطرے میں پڑگیا ہے اور ہم سب کو اس کے بچاؤ کے لئے سڑکوں پر آکر کسی بھی قربانی کیلئے تیار رہنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کے عوام اور قیادت اپنی شناخت اورکسی حتمی حل تک اس ریاست کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کی بھر پور مزاحمت کرینگے اور اس کیلئے اپنی جان دینے اور عوامی سطح پر ایک بھر پور سیاسی تحریک چلانے کیلئے تیار ہے۔انہوں نے کہا ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ محکوم کشمیری قوم جو مشکلات سے گذرہی ہے ہڑتالوں کی وجہ سے ان مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا ہے تاہم اپنی شناخت اور تنازعہ کشمیر کی حیثیت وہیئت کو زک پہنچانی جیسی سازشوں کو ناکام کرنے کیلئے اس طرح کا احتجاج لازمی بن جاتا ہے۔

Comments are closed.