ویڈیو: پلوامہ میں میجر سمیت چار فوجی اور پولیس اہلکار ازجان ،تین جنگجو اورشہر ی جاں بحق،۔جھڑ پ جاری

ڈی آ ئی جی ، بریگیڈر، لیفٹنٹ کرنل سمیت پانچ اہلکار زخمی۔دو رہاشی مکان زمین بوس۔ پرتشدد جھڑ پیں۔ انٹر نیٹ سروس معطل

سرینگر18فروری /سی این ایس / پنگلن پلوامہ میں فوج اور جنگجوؤں کے مابین 16 گھنٹوں تک جاری رہنے والی خوفناک تصادم آرائی کے دوران ایک میجر سمیت چار فوجی اور ایک ایس اؤ جی اہلکار ہلاک جبکہ ڈی آ ئی جی جنوبی کشمیر امیت کمار ، ایک فوجی بریگڈر اورایک لیفٹنٹ کرنل سمیت پانچ اہلکار زخمی ہوئے ہیں ۔ معرکہ آرائی کے دوران جیش محمد کے تین جنگجو اور ایک شہری بھی جاں بحق ہوگیا۔ جنگجو ؤں اور شہر ی کی ہلاکت کے بعدفورسز اور نوجوانوں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کے بیچ انٹر نیٹ سروس معطل اور سخت کرفیو کا نفاذ عمل میں لایاگیاہے۔سی این ایس کے مطابق فوج کی55 آر آر,سی آ ر پی ایف اور اسپیشل آپریشن گروپ نے پلوامہ کے پنگلن میں جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر مذکورہ علاقہ کو اتوار اور سوموار کی درمیانی رات محا صرے میں لے لیا ہے۔ اس دوران فورسز نے جنگجوؤں کے ممکنہ ٹھکانے کا گھیراؤ کیا اور بستی کے گردونواح کو سیل کردیا۔ جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر گھر گھر تلاشی کارروائی کا آغازکیا۔ بستی میں چھپے جنگجوؤں نے فورسز پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کی۔ فورسز نے اس دوران جنگجوؤں کا بھر پور جواب دیتے ہوئے فورسز کی اضافی کمک کو طلب کرلیاہے اور علاقہ کے تمام راستوں اور ناکوں پر سخت پہرے بٹھاتے ہوئے جنگجوؤں کے فرار ہونے کے تمام ذرائع پر قدغنیں عائد کیں۔اسدوران طرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا۔ گو لیوں کے تبادلے میں ایک میجر سمیت چار فوجی اہلکار جاں بحق ہوئے۔مہلوک فوجیوں کی شناخت میجر ڈی ایس ڈونڈائل ، ہیڈکانسٹیبل ستیہ رام، سپاہی اجے کمار اور سپاہی ہری سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔ مارے ایک گئے جنگجو کی شناخت ہلال احمد نائیکو کے بطور ہوئی ہے۔ جھڑ پ میں زخمی ہوئے زخمی فوجی سپاہی گلزار محمد سمیت دو اہلکاروں کو علاج ومعالجہ کے لئے سری نگر کی بادامی باغ فوجی چھاونی میں واقع92 بیس ملٹری اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔فائرنگ کے تبادلے میں ایک شہری، مشتاق احمدصوفی بھی زخمی ہوگیا جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔ پیر کی صبح کے وقت پنگلنہ اور ملحقہ بستیوں سے نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مشکلات پید اکرنے کی خاطر فورسز پر سنگ باری کی۔

 

فورسز نے اس موقعہ پر امن میں رخنہ ڈالنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین پر پیلٹ اور ٹیر گیس کے گولے داغے ضلع کے بیشتر جگہوں پر احتجاج کی اطلاعات ملی ہیں جس کے بعد پلوامہ کے بیشتر علاقوں میں کرفیو کا نفاذ عمل میں لایاگیا۔ جھڑ پ میں دو رہاشی مکان زمین بوس ہوگئے ہیں۔ جھڑ پ کے پیش نظر ضلع میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات منقطع کی گئی ہیں۔ اس دوران اگر چہ دوپہر تک فائر نگ کا سلسلہ بند ہوا تا ہم تین بجے کے بعدعسکریت پسندوں اور فورسز کے مابین خونین معرکہ آرائی میں مزید تین فوجی زخمی ہوگئے۔ زخمی ہونے والوں میں لیفٹننٹ کرنل سمیت تین فوجی اہلکار شامل ہیں۔ جن کو با دامی باغ اسپتال منتقل کیاگیاہے۔ فائر نگ میں12 سیکٹر کے بریگڈر ہر بیر سنگھ بھی زخمی ہوئے ہیں جن کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ساڑ ھے چار بجے گولی لگنے کے بعد ڈی آئی جی جنوبی کشمیر امیت کمار زخمی ہو گئے ہیں جن کو علاج ومعالجہ کیلئے سر ینگر منتقل کیا گیاتاہم ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔ بعد میں جھڑ پ کے دوران ایک پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوگیا ہے جس کی شناخت عبدالرشید ساکن کرنا کے بطور ہوئی ہے۔ادھر پولیس کی طرف سے موصولہ بیان میں کہا گیاہے کہ فورسز کو یہ اطلاع موصو ل ہوئی کہ جنگجو جنوبی ضلع پلوامہ کے پنگلنہ گاؤں میں چھپے بیٹھے ہیں تو پولیس اور سیکورٹی فورسز نے 17اور 18فروری کی درمیانی رات کو مشترکہ طورپر فوراً اس علاقے کو محاصرے میں لے لیا اور اْنہیں ڈھونڈ نکالنے کیلئے کارروائی شروع کی ،فرار ہونے کے تمام راستے مسدود پا کر رہائشی مکان میں موجود جنگجوؤں نے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی جس کے نتیجے میں چار فورسز اہلکار اور ایک عام شہری شدید طورپر زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپر علاج ومعالجہ کی خاطر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہاں چار فوجی جوان جابحق ہوئے جبکہ عام شہری بھی زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔ مہلوک فوجی اہلکاروں کی شناخت میجر وبھوتی شنکر دیندیال ، حوالدار شیو رام ، سپاہی ہری سنگھ اور سپاہی اجے کمار کے بطور ہوئی ہے۔ سلامتی عملے نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کا آغاز کیا جس دوران دو جنگجو ہلاک ہوئے اور اْن کی شناخت اور تنظیمی وابستگی کے بارے میں جانچ پڑتال ہو رہی ہے۔ علاقے میں جنگجو پولیس نے عوام سے پْر زور اپیل کی ہے کہ وہ جائے تصادم پر جانے سے تب تک گریز کیا کریں جب تک اسے پوری طرح سے صاف قرار نہ دیا جائے کیونکہ پولیس اور دیگر سلامتی ادارے لوگوں کے جان و مال کی محافظ ہے لہذا لوگوں کی قیمتی جانوں کو بچانے کیلئے پولیس ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ چنانچہ ممکن طور جھڑپ کی جگہ بارودی مواد اگر پھٹنے سے رہ گیا ہو تو اس کی زد میں آکر کسی کی جان بھی جاسکتی ہے۔ اسی لئے لوگوں سے بار بار اپیل کی جاتی ہے کہ وہ جھڑپ کی جگہ کا رخ کرنے سے اجتناب کریں۔ لوگوں سے التجا کی جاتی ہے کہ وہ حفاظتی عملے کو اپنا کام بہ احسن خوبی انجام دینے میں بھر پور تعاون فراہم کریں تاکہ کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہ آسکیں۔

Comments are closed.