کانوائی کے دوران کسی بھی نجی گاڑی کو چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی/ آر آر بھٹناگر

فورسز کانوائیوں کی نقل و حمل کیلئے نئے قواعد و ضوابط وضع کئے جائیں گے

سرینگر: ریاست جموں و کشمیرمیں فورسز کی گاڑیوں کی کانوئیوں میں آواجاہی کیلئے نئے سرئے سے لائحہ عمل مرتب کیا جارہا ہے جس میں فورسز کی کانوائیوں کے اوقات کار، ٹریفک کی نقل وحمل ،ٹھہرنے کی جگہوں پر نئے سرے سے غوروخوض کے بعد قواعد جاری کئے جائیں گے جبکہ کانوائیوں کی نقل و حمل کے دوران کسی بھی مسافر گاڑی یا دوسری کسی بھی گاڑی کو چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق پلوامہ میں سی آر پی ایف قافلے پر ہوئے خودکش حملے کے بعد کشمیر آنے جانے کے دوران مومینٹ کے ضابطے بدلیں گے۔ سی آر پی ایف اب اپنے قافلے کی نقل و حمل کے دوران مزید الرٹ رہے گا اور سکیورٹی کی نظر سے نئے فیچرس اور ضابطوں کو نافذ کریگا۔اتوار کے روز سی آر پی ایف کے ڈی جی آر آر بھٹناگر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم نے اسٹینڈرڈ پروسیزر میں تبدیلی کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ وادی کشمیر میں اپنے دو روزہ دورے کے بعد سی آر پی ایف کے ڈی جی نے کہا، ’’ کشمیر آنے اور جانے کے دوران ہم قافلے کی مومینٹ میں نئے فیچرس کو شامل کریں گے‘‘۔ یہ بدلاو سکیورٹی کے مدنظر ہوگا۔بھٹانگر نے نئی دلی میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ فورسز کی کانوائیوں کی آواجاہی کیلئے نئے سرے سے لائحہ عمل مرتب کیاجائے گا جس میں کانوائیوں کے اوقات کار ، ٹریفک کی نقل و حمل، موسم کی صورتحال، کانوائی کے ٹھہرائو کی جگہ کا تعین اوردیگر معاملات زیر نظر رکھے جارہے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ گھاٹی میں فورسز کی گاڑیوں کو نشانہ بنانے پر روک لگانے کیلئے بھی حکمت عملی مرتب کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فورسز گاڑیوں کے قافلوں کے دوران مومنٹ کے اوقات میں کسی بھی نجی گاڑی کو چلنے کی اجازت نہیں دی جائیگی ۔واضح رہے کہ پلوامہ میں ہوئے جیش محمد کے خودکش حملے میں سی آر پی ایف کے 40 جوانوں کے جاں بحق ہونے کے بعد وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ اب جموں و کشمیر میں سکیورٹی اہلکاروں کے قافلے گزرنے کے دوران عام شہریوں کی آمدورفت پر پابندی رہے گی۔

Comments are closed.