آئی سی جے سے انصاف نہیں ملے گا تو انصاف کیلئے کہاں جائیں گے / بھارت

عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کیس کی سماعت

سرینگر: پاکستان میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے کیس کی عالمی عدالت میں سماعت ہوئی۔چار دنوں تک چلنے والی اس سماعت سے پہلے ہندوستان کی طرف سے پیش ہوئے ہریش سالوے نے کہا کہ آئی سی جے سے انصاف نہیں ملے گا تو انصاف کیلئے کہاں جائیں گے ؟سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق عالمی عدالت انصاف کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق عالمی عدالت نے 18 فروری کو بھارتی وکیل کو دلائل کے لئے وقت دیا گیا ہے جب کہ منگل 19 فروری کو پاکستانی وکلاء عالمی عدالت کے ججز کے سامنے اپنے دلائل پیش کریں گے۔پاکستان اور بھارتی وکلاء کے دلائل کے بعد بحث و جرح کا آغاز ہوگا، 20 فروری کو بھارت جب کہ جمعرات 21 فروری کو پاکستانی وکیل بحث کریں گے۔ کلبھوشن یادیو کیس کی جرح کی مکمل کارروائی بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی ویب سائٹ پر براہِ راست نشر کی جائے گی۔آئی سی جے میں کلبوشن کی طرف سے پیروی کرتے ہوئے ہریش سالوے نے کہا کہ یہ میرے لئے فخر کی بات ہے کہ میں یہاں ہندوستان کا کیس پیش کررہا ہوں۔ میں یہاں ایک معصوم ہندوستانی کا موقف پیش کرنے کیلئے آیا ہوں۔ ہندوستان ویانا کنونشن کی خلاف ورزی اور ہندوستانی شہری کو پاکستان میں کاونسلر ایکسس نہیں دینے کی وجہ سے آئی سی جے میں یہ کیس لے کر آیا ہے۔ پاکستان نے کئی ایسے معاملات اٹھائے ہیں ، جن کا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ہریش سالوے نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کلبھوشن معاملہ کو پروپیگنڈہ ٹول کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ کلبھوشن کو کاونسلر ایکسس دینے کیلئے پاکستان پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ 30 مارچ 2016 کو ہندوستان نے کلبھوشن کو کاونسلر ایکسس دینے کیلئے پاکستان کو ریمائنڈر بھیجا تھا۔ ہندوستان کو پاکستان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔ اس کے بعد الگ الگ تاریخوں پر ہندوستان کی طرف سے 13 ریمائنڈر بھیجے گئے۔ہریش سالوے نے مزید کہا کہ پاکستان نے جادھو کے کنبہ کو ان سے ملنے کی اجازت دی۔ کچھ شرائط کے ساتھ دونوں کے درمیان اتفاق رائے قائم ہوا اور 25 دسمبر 2017 کی تاریخ ملاقات کیلئے طے کی گئی۔ حالانکہ جادھو کی اہلیہ اور ان کی والدہ کے ساتھ جس طریقہ کا سلوک کیا گیا وہ چونکانے والا تھا۔ واضح رہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن یادیو کو مارچ 2016 میں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا، بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر نے پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کا اعتراف کیا تھا جس پر پاکستان کی فوجی عدالت نے کلبھوشن کو سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔

Comments are closed.