جموں شہر میں سوموار کو مسلسل چوتھے روز بھی کرفیو نافذ ہے، کشمیر سے وابستہ طلبہ ، تاجر، مزدور اور ملازمین خوف کے سائے میں

سرینگر: جموں میں بلوائیوں کی جانب سے کشمیریوں پر حملوںاور جائیداد کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ جموں کے مسلمانوں کیخلاف تشدد کے بعد جموں میں نافذ شدہ کرفیوآج سوموارکو مسلسل چوتھے روز بھی سختی کے ساتھ نافذ رہا ۔ اس دوران جموں میں مقیم کشمیری لوگ خوف ودہشت سے سہم کے رہ گئے ہیں اور اپنے رہائشی کمروں میں مسلسل چاردنوں سے محصور ہوکے رہ گئے ہیں ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق 14فروری کو لیتہ پورہ پلوامہ میں فدائین حملے کے بعد جموں میں بلوائیوں نے کشمیریوں پر حملے شروع کئے جس دوران درجنوں کشمیرسے تعلق رکھنے والی گاڑیوں اور دیگر جائیداد کو نقصان پہنچایاگیا ۔ اسکے ساتھ ساتھ جموں کے مختلف شہروں میں رہنے والے مسلمانوں پر بھی حملے شروع کئے جس کی وجہ سے جموں خطے میں امن و سلامتی کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے انتظامیہ نے کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا ہے ۔ اور آج چوتھے روز بھی کرفیو سخت کے ساتھ نافذ کیا گیا ہے اس ضمن میں حکام نے کہا ہے کہ کرفیو کا سلسلہ آج چوتھے روز بھی جاری رہے گا اور جب حالات میں سدھار آئے گا تو اس میں نرمی کے سلسلے میں کوئی فیصلہ لیا جائے گا۔یاد رہے کہ جموں میں 15فروری کو اْس وقت کرفیو نافذ کیا گیا جب تشدد پر آمادہ بھیڑ نے کشمیریوں اور مقامی مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا اور کئی گاڑیوں کو آگ لگادی۔یہ مظاہرین لیتہ پورہ حملے کیخلاف احتجاج کرنے کیلئے سڑکوں پر نکل آئے تھے جس میں 14فروری کوکم سے کم49فورسز اہلکار ہلاک ہوگئے۔حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات سے شہر میں کسی ناخوشگوار واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔شہر میں موبائیل انٹرنیٹ سروس لگاتار معطل ہے۔سی این آئی کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جموں میں مقیم کشمیری طالب علم، تاجر ، مزدور اور کشمیری ملازمین خوف کے سائے میں رہ رہے ہیںاور اپنے رہائشی کمروں میں سم کے رہ گئے ہیں ۔ تاہم کرفیو کے نفاذ کی وجہ سے بلوائیوں کی طرف سے کشمیریوں پر حملوںمیں روک لگ گئی ہے ۔

Comments are closed.