ریاستی طلباء کی مشکلات کے ازالے کیلئے لیزان آفیسر کالج منتظمین کے رابطے میں ہیں

جموں: سرکار نے کہا ہے کہ مختلف ریاستوں میں تعینات لیزان افسران مقامی انتظامیہ اور کالج منتظمین کے ساتھ لگاتار رابطے میں ہیں تاکہ ریاست جموں وکشمیر کے طلباء کو کسی بھی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ ریاستی انتظامیہ تمام طلباء اور ان کے والدین کو صلاح دیتے ہیں کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دے کر متعلقہ جگہوں پر رہیں اور کسی بھی مدد کے لئے مذکورہ لیزان افسروں اور مقامی پولیس انتظامیہ سے رابطہ کریں ۔ان لیزان افسروں کے فون نمبرات پہلے ہی طلباء کو فراہم کئے گئے ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ لیتہ پورہ واقعہ کے بعد مختلف ریاستوں میں جموں وکشمیر کے طلباء کی مبینہ ہراسانی کی رپورٹیں ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ریاستی سرکار نے دلی، میرٹھ ،جے پورہ ،بھوپال، چندی گڈھ ، علی گڈھ ، بنگلورو اور پونے میں لیزان افسران تعینات کئے ہیں اور ان علاقوں میں زیر تعلیم طلباء کو کسی بھی پریشانی کے حل کے لئے مذکورہ افسران سے رابطہ کرنے کی صلاح دی گئی ہے جو متعلقہ کالج منتظمین اور مقامی انتظامیہ کے تعاون سے طلباء کو درپیش مشکلات کے ازالے کو یقینی بنائیں گے ۔چوں کہ ان لیزان افسروں کو تین ماہ پہلے تعینات کیا گیا تھا اسلئے اُنہوں نے ان علاقوں میں مختلف کالجوں اور زیر تعلیم طلباء کو اپنے نمبرات فراہم کئے ہیں ۔ان میں سے کئی افسران نے پہلے ہی کالج عہدہ داروں سے ملاقاتیں کی ہیں تاکہ بہترتال میل کو یقینی بنایا جاسکے۔
لیتہ پورہ واقعہ کے بعد چند شر پسندوں کی طرف سے وٹس ایپ پر مبینہ بد نظمی ،کینڈل مارچ اور مقامی افراد کی طرف سے مارچ کئے جانے اور کرایہ پر رہنے والے ریاستی طلباء کو مالکان مکان کی طرف سے کمرے خالی کرنے کی رپورٹیں ہیں جن کی وجہ سے اِن طلباء میں تشویش اور عدم تحفظ پیدا ہوا ہے۔
اِن رپورٹوں کے پیش نظر مذکورہ لیزان افسران گذشتہ دو دنوں سے ریاستی طلباء کی مدد کے لئے تمام لازمی اقدامات اُٹھا رہے ہیں جبکہ صوبائی کمشنر کشمیر کے دفتر میں کنٹرول روم اور ہیلپ لائن بھی قائم کئے گئے ہیں۔متعلقہ لیزان افسروں نے فوری طور طلباء ، کالج منتظمین اور مقامی انتظامیہ سے رابطہ کیا تاکہ طلباء کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنایا جاسکے۔
لیزان افسروں نے مہاریشی نرکیندیشور ملانا یونیورسٹی امبھالامیں ایک معاملے کو حل کیا جہاں 104طلباء کو یونیورسٹی کے تین ہوسٹلوں میں پولیس حفاظت پراقامت فراہم کی گئی ۔مقامی ایس ایچ اونے ہوسٹل کوپولیس تحفظ فراہم کرنے کی تصدیق کی ہے۔اس خطے میں چندی گڈھ کے لیزان آفیسر کام کر رہے ہیںجنہوںنے گنپتی انسٹی چیوٹ بلاس پور میں بھی ایک ایسے ہی معاملے کو حل کیا ۔ مذکورہ ادارے کے ڈائریکٹر نے وہاں زیر تعلیم طلباء کو ہوسٹلوں میں پولیس کے ذریعے حفاظت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
علاوہ ازیں دہرا دون میں زیر تعلیم کئی طلباء نے فون کالوں کے ذریعے مدد طلب کی اور متعلقہ لیزان افسر نے کالج منتظمین اور ایس ایچ او پریم نگر کے ساتھ بات کی جنہوں نے طلباء کو تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ اُنہیں متعلقہ ہوسٹلوںمیں اقامت فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔بابافرید انسٹی آف ٹیک ، الپائن انسٹی چیوٹ ، ڈالفین انسٹی چیوٹ ، ایس بی ایس میڈیکل کالج اور دیگر کالجوں میں زیر تعلیم طلباء نے متعلقہ لیزان افسروں کو فون کر کے اپنے مشکلات سے آگاہ کیا تھا۔
دہرادون میں زیر تعلیم کئی طلباء کل شام دلی پہنچے تھے جنہیں جے کے ہاوس چنکیا پوری میں اقامت فراہم کی گئی ہے ۔
سیلاکوئیی دہرادون میں زیر تعلیم 100طلباء رام پور میں جمع ہوگئے جس کے بعد متعلقہ ایس ایچ اور اور سی او نے انہیں پرتحفظ اقامت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔
جے پور کے لیزان افسران نے تصدیق کی ہے کہ پیسفک یونیورسٹی ادھے پور میں حالات پُر امن ہے اور طلبائو کو یونیورسٹی کیمپس سے باہر نہ جانے کی صلاح دی گئی ہے ۔پولیس کمشنر اور ایس پی نے مذکورہ کیمپس کا دورہ کیا۔
ریاستی انتظامیہ نے ریاست بھر کے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ طلبا ء کی طرف سے کی جارہی ہر فون کال پر ضروری کارروائی کی جارہی ہے اور اُن کے والدین اورمقامی انتظامیہ کو صورتحال کے بارے میں لگاتار جانکاری دی جارہی ہے۔اِن تمام جگہوں کی اِنتظامیہ اور کالج منتظمین نے ریاستی طلباء کے تحفظ اور سلامتی کے لئے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔

Comments are closed.