مکہ مسجد بٹھنڈی میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا خطاب، صدیوں کا بھائی چارہ کی علم فیروزان رکھنا وقت کی اہم ضرورت

سرینگر: ریاست کے لوگوں نے ہمیشہ خصوصاً نازک اور مشکل ترین حالات میں صدیوں کا بھائی چارہ کی علم کو روشن اور بلند رکھنے میں کلیدی اور تاریخی رول اداکرتے آئے ہیں جس پر پوری دنیاکے اقوام کا بھی اعتراف ہے اور انشاء اللہ آج تک اس مشعل کو زندہ رکھنے میں تینوں خطوں کے لوگ ہمیشہ کمر بستہ رہے ہیں ان باتوں کا اظہار صدر جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس قائد ثانی ڈاکٹر فاروق عبداللہ (ایم پی) نے آج صبح مسجد مکہ بھٹنڈی کے صحن میں ایک بھاری لوگوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور اسکی عظیم قیادت نے ہمیشہ ریاست کے لوگوں کے احساسات ، مفادات کے خاطر عظیم مالی اور جانی قربانیاں دیتی آئی ہے اور اس اصول پر چٹان کی طرف قائم ہے ۔ بابائے قوم مرحوم شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے ہمیشہ مذہبی آزادی بھائی چارہ اور لوگوں کے حقوق کا پاسبان بن کر اپنی زندگی کے قیمتی اور سنہری ایام جیل خانوں میں گزارے اور ہمیشہ تشدد کے خلاف رہے اور عدم تشدد کے حامی اور اہل کشمیر ہمیشہ امن کے متلاشی اور قتل ناحق کے خلاف رہے ہیں اور ریاست میں مکمل امن وامان کی بحالی کے ساتھ ساتھ لوگوں کو مکمل تحفظ ،مال وجان کا تحفظ دینے کی خیرخواہ رہی ہے ۔ ڈاکٹر عبداللہ نے جموں کے عوام کے ان بھائی چارہ اور انسانی قدروں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ جموں عوام نے 1990 میں جس قدر کشمیری بھائیوں کو نہایت نازک اور مصیبت کی گڑی میں گلے ملا کر پناہ دی اور ان کے حوصلے بلند کئے وہ ہم فراموش نہیں کر سکتے لیکن بدقسمتی سے مٹھی بھر فرقہ پرست عناصر اپنے ذاتی اغراض کے خاطر امن وامان کو بگاڑنے میں ناپاک کوششیں کرتے ہیں جس سے ریاست کے صدیوں کے بھائی چارہ پربدنما دبہ اور آنچ آتی ہے اس لئے اہل جموں سے میری گزارش ہے کہ وہ ایسے بلوائیوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے کمر بستہ ہوجائیں ۔ انہوں نے مرکزی قیادت کے ساتھ ساتھ ریاست گورنر انتظامیہ سے بھی اپیل کی کہ وہ لوگوں کے مال وجان کے تحفظ بنانے میں مزید جنگی بنیادوں پر اقدامات کریں اور شرپسند عناصروں کے خلاف موثر اور سخت قانونی کاروائی کی جائے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے جمہوری آئین میں ہر طبقہ کے لوگوں کو مذہبی آزادی کے ساتھ اپنے مال وجان کا تحفظ دیا گیا ہے اس لئے عوام کو ان آئینی اصلوں پر کاربند رہنا بھی ہمارا فرض ہے انہوں نے کہا کہ اہل کشمیر گزشتہ 70 سالوں سے مصیبت اور مصائب سے دوچار ، اقتصادی بد حالی اور سیاسی انتشار کے بھنور میں پھنسے ہیں اور اس کا واحد حل اور ریاست میں امن لوٹ آنے کی ضمانت افہام وتفہیم امن بات چیت اور ہندوستان پاکستان کی دوستی میں ہی مضمر ہے ۔ انہوں نے ریاستی گورنر انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ جموں میں مقیم سرکاری ملازمین کاروباری لوگوں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کا تحفظ بنانے میں متحریک ہوجائیں اور کرفیو ں زدہ علاقوں میں رہائش پذیر عوام کی ہر سطح پر دیکھ بال کی جائے اور شرپسند عناصروں پر کڑی سے کڑی نگرانی رکھی جائے جو ریاست کے امن وامان بگاڑنے کے ساتھ ساتھ مذہبی منافرت پھیلانے میں اپنے ناپاک عزائم سے کام لے رہے ہیں۔ ڈاکٹر عبداللہ نے مرکزی قیادت خصوصاً وزیر اعظم ہند ، وزیر داخلہ سے بھی ذاتی اپیل کی کہ ریاست کے ان تاجر جو کئی دھائیوں سے ملک کے کونے کونے میں اپنے تجارتی ادارے چلا رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ زیر تعلیم کشمیری طلبہ و طالبات کاتحفظ یقینی بنایا جائیں جن کو بدقسمتی سے کشمیری ہونے کے ناطے میں پریشان اور ہراساں کرتے ہیں۔ ڈاکٹر عبداللہ نے گورنر انتظامیہ کے ان اقداما ت کا بھی خیر مقدم کیا کہ جنہوں نے جموں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو وادی اور دیگر علاقوں تک پہچانے میں پوری سیکورٹی کے تحت اپنے اپنے مزل تک پہنچایا جائے ۔ انہوں نے گورنر انتظامیہ سے یہ بھی اپیل کی کہ بدقستمی سے جن بلوائیوں نے امن پسند شہریوں کے مال وجائیداد پہنچایا ان کی بھر پائی کی جائے ۔ اس موقعہ پر پارٹی کے معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال صدر صوبہ جموں ( سابق ایم ایل اے ) شری دیویندر سنگھ رانا، صوبائی صدر یوتھ جموں مسٹر اعجاز جان ، محمد سعید آخون ، ترلوچن سنگھ ، شعیہ فیڈریشن کے نمائندے بعض علماء کرام اور ائمہ مساجد بھی موجود تھے۔

Comments are closed.