سرینگر: سرمائی درالحکومت جموں میں تیسرے روز بھی کر فیو جار ی رہا جس دوران فوج نے صبح سے ہی پورے شہر میں فلیگ مار چ کیا۔احتیاطی طور پر انٹرنیٹ خدمات کو بدستور معطل رکھا گیا۔ ادھر بھار ت کے دیگر ریاستوں میں بھی مقیم کشمیر ی کو واپس جانے کی دھمکیاں بدستور جاری ہیں جس کے باعث بھارت کے مختلف شہروں میں مقیم کشمیریوں کے ساتھ ساتھ مقامی مسلمانوں میں شدید خوف و ہراس پایاجارہاہے اور وہ خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ادھر مرکزی سرکار نے ایک مرتبہ پھر تمام ریاستوں کے نام ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے انہیں بھارت کی دیگر ریاستوں میں زیر تعلیم کشمیری طالب علموں کی حفاظت یقینی بنائیں کیلئے متحرک رہنے کو کہا ہے۔ سی این ایس کے مطابق جموں شہر میں تین روز قبل توڑ پھوڑ اور کشمیری گاڑیوں کو نقصان پہنچا نے کل عمل شروع ہوا جس کے بعد شہر میں سخت کرفیو کا نفا ز عمل میں لایا گیا اور فوج نے شہر میں فلیگ مارچ کیا۔ شہر میں آ ج تیسرے روز بھی کرفیو کا نفاذ رہااور فوج کے ساتھ ساتھ دیگر فورسز کی خدمات بھی حاصل کی گئیں جس دوران گوجر نگر، شہیدی چوک، جانی پور ، پرانی منڈی ، پکہ ڈنگا، وزارت روڈ، ریہاڑی ، نیو پلاٹ ، گمٹ ، پریم نگر اور نڑوال علاقوں میں فوج اور دیگر اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔فوج گوجر نگر، جانی پور ، شہیدی چوک، تالاب کھٹیکاں و دیگر علاقوں میں فلیگ مارچ کئے۔ حکام نے دوسرے روز احتیاطی طور پر انٹرنیٹ خدمات کو بدستور معطل رکھاہواہے جبکہ براڈ بینڈ سروسز کی سپیڈ بھی کم کردی گئی۔ ادھر دہلی ، راجھستان اور دیگر شہروں میں اس صورتحال سے جموں میں مقیم مقامی و غیر مقامی مسلمانوں میں شدید خوف و ہراس پایاجارہاہے اور وہ خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ان کشمیر کو گھر لوٹنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔دہرادون میں مقیم کشمیری طالب علموں کو کرایہ داروں کی طرف سے کرایہ پر لئے گئے کمرے واپس لے لئے گئے ہیں۔جنوبی کشمیر کے لیتہ پورہ میں حالیہ جنگجوؤں کے خود کش حملے کے پس منظر میں بھارت کی دیگر ریاستوں میں مقیم کشمیری انتہائی خوف وہراس میں مبتلا ہے جس کی وجہ سے ان کے لواحقین میں زبردست تشویش لاحق ہے۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.