ویڈیو: کشمیریوں پر جموں اوربیرون ریاست میں حملے، تجارتی انجمنوں کی کال پرزندگی کی رفتار تھم گئی۔ انٹرنیٹ سروس بند

 

سرینگر16فروری /سی این ایس / کشمیریوں پر جموں اور ریاست سے باہر سے مختلف علاقوں میں حملوں کے خلاف تجارتی انجمنوں کی طرف سے دی گئی کال پر سبھی وادی کے دس اضلاع میں مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال سے عام زندگی کی رفتار تھم گئی جبکہ پوری وادی میں انٹرنیٹ سروس کو معطل رکھا گیا۔ سی این ایس کے مطابق کشمیریوں پر بیرون وادی اور ریاست سے باہر سے مختلف علاقوں میں حملوں کے خلاف کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈ ریشن اور کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریزکی کال پر اتوار کو پوری وادی میں مکمل ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ہڑتال کی حمایت تجارتی انجمنوں کے علاوہ دیگر مذ ہبی جماعتوں نے بھی کی تھی۔ ہڑتال کے دوران وادی کشمیر کے سبھی دس اضلاع میں عام زندگی معطل ہوکر رہ گئی ہے۔ہمہ گیر ہرتال کے دوران وادی کے شمال وجنوب میں سیول کرفیو جیسے مناظر دیکھنے کو ملے۔ شہر خاص اور سیول لائنز کے خانیار، رعنا واری، مہاراج گنج، نوہٹہ، صفا کدل، مائسمہ اور کرالہ کھڈ کے تحت آنے والے علاقوں میں اضافی سیکورٹی اقدامات اٹھائے گئے تھے۔ شہر کی بیشتر آبادی نے گھروں میں ہی رہنے کو ترجیج دی،جس کی وجہ سے عام زندگی کی رفتار تھم گئی۔ جموں وکشمیر سٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی گاڑیاں بھی سڑکوں سے غائب رہیں۔ شہر کے ہر علاقے میں ہو کا عالم تھا اور زندگی کی رفتار تھم گئی تھی، پرام سرینگر اور دیگر جگہوں پر سڑ کوں پر ٹا ئر جلائے گئے تھے۔ شہر سرینگر کے ساتھ ساتھ پوری وادی میں انٹرنیٹ سروس منقطع رکھی گئی تھی۔ تجارتی انجمنوں کی کال پر ضلع بڈگام اور گاندربل کے علاقوں میں بھی مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ گاندربل کے تولہ مولہ،صفا پورہ،کنگن، گگن گیر اور دیگر علاقوں میں بھی اسی طرح کی صورتحال نظر آئی۔ کال کے پیش نظر کنگن اور اسلے ملحقہ علاقوں کاروباری ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں پر مسافر گاڑیوں کی آمد درفت بھی معطل رہی۔بیروہ ٹنگمرگ، چندی لورہ، درورو، ریرم ،کنزر،دھوبی وان، چیچلورہ، ماگام، مازھامہ، آری پتھن،کھاگ، پوشکر اور دیگر علاقوں میں بھی ہڑتال رہی۔گاندربل کے تولہ مولہ،صفا پورہ،کنگن، گگن گیر اور دیگر علاقوں میں بھی اسی طرح کی صورتحال نظر آئی۔ شمالی کشمیر کے تینوں اضلاع میں مکمل ہڑتال سے زندگی پٹری سے نیچے اتر گئی۔اس دوران پرتناؤ صورتحال ہر سو نظر آرہی تھی تاہم مجموعی طور پر حالات پرامن رہے۔بارہمولہ میں مکمل ہڑتال کی گئی اور اس دوران تمام بازار اور کاروباری و تجارتی مرکز بند رہے،جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حمل بند رہی۔ سوپور میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی جس کے دوران عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔سرحدی ضلع کپوارہ میں بھی مکمل ہڑتال رہی،اور اس دوران لنگیٹ،ترہگام،لعل پورہ ،کرالہ پورہ میں مکمل ہڑتال رہی۔ بانڈی پورہ میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی اور اس دوران حا جن ، سو نا و ا ر ی ، ا جس ، نائد کھے، سمبل،نسبل،شلوت،صدر کوٹ بالا، کلوسہ، وٹہ پورہ، آلوسہ، اشٹنگو، کہنو سہ سمیت دیگرعلاقوں میں دکانیں مکمل طور مقفل رہیں جبکہ ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی کی رفتار تھم گئی۔جنوبی قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال اور سیول کرفیو کی وجہ سے کاروباری اور دیگر سرگرمیاں مفلوج رہیں۔ پلوامہ میں مکمل ہڑتال اور سیول کرفیو جیسی صورتحال کے بیچ دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے،جبکہ کاکہ پورہ، پانپور، نیوہ،اونتی پورہ، ترال،کھریو،لدھو اور راجپورہ سمیت دیگر علاقوں میں ہو کا عالم نظر آ رہا تھا۔ادھر شوپیان میں بھی مکمل ہڑتال رہی۔ضلع کے تمام علاقوں میں ہڑتال کے نتیجے میں عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔کولگام میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی اورداخلی و اخراجی راستوں کو سیل کیا گیا تھا۔ ضلع کے کھڈونی ، ہاورہ، محمد پورہ،نیلوہ،فرصل،اوکے،دمحال ہانجی پورہ ،کھڈونی،ریڈونی،پہلو،کیموہ سمیت دیگر علاقوں میں ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی ساکت ہوکر رہ گئی۔اننت ناگ کے بجبہاڑہ،آرونی،سنگم، کھنہ بل،دیلگام،مٹن،سیر ہمدان،کوکر ناگ،وائل سمیت دیگر علاقوں میں مثالی ہڑتال اور علامتی سیول کرفیو دیکھنے کو ملا۔ڈورو ،ویری ناگ ،قاضی گنڈ اورکوکر ناگ میں مکمل ہڑتال رہی جس دوران تمام دکانیں بند رہی جبکہ سڑکوں سے ٹریفک غائب رہا۔

Comments are closed.