رہا شی کوارٹروں پرپھر حملہ۔ بیرون ریاستوں میں بھی مقیم کشمیر ی کو واپس جانے کی دھمکیا ں
جموں میں دوسرے روز بھی کر فیو، انٹر نیٹ کی معطلی بھی جاری۔ ایڈوئزری جاری
سرینگر16فروری /سی این ایس / سرمائی درالحکومت جموں میں ہفتہ کو دوسر ے روز بھی کر فیو جار ی رہا اور فوج نے پورے شہر میں فلیگ مار چ کیا۔حکام نے احتیاطی طور پر انٹرنیٹ خدمات کو بدستور معطل رکھا گیا۔اس دوران آج جانی پور میں ایک مشتعل ہجوم نے پولیس کی موجود گی میں کشمیر ی ملازمین کے رہائشی کوارٹروں پر حملہ کیا ۔ ادھر بھار ت کے دیگر شہر وں میں بھی مقیم کشمیر ی کو واپس جانے کی دھمکیا ن مل رہی ہیں جس کے باعث بھارت کے مختلف شہروں میں مقیم کشمیریوں کے ساتھ ساتھ مقامی مسلمانوں میں شدید خوف و ہراس پایاجارہاہے اور وہ خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں ۔اس دوران مرکزی سرکار نے سنیچر کو تمام ریاستوں کے نام ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہاکہ وہ اپنے اپہنے علاقوں میں زیر تعلیم کشمیری طالب علموں کی حفاظت یقینی بنائیں۔ سی این ایس کے مطابق جموں میں گذشتہ روز شہر میں توڑ پھوڑ اور درجنوں گاڑیوں کو نقصان پہنچا نے کے بعد ہفتہ کو دوسر ے روز سخت کرفیو کا نفا ز عمل میں لایا گیا اور فوج نے شہر میں فلیگ مارچ ۔جانی پور میں سیول سیکریٹریٹ ملازمین کے رہائشی کوارٹروں دوسر ے روز بھی پتھراؤ کیاگیا۔ مظاہرین نے پتھراؤ کرکے رہائشی کوارٹروں اور گاڑیوں کے شیشے توڑ دیئے لیکن ان کوارٹروں پر مامورپولیس نے بلوائیوں کی طرف آنکھ اٹھاکر بھی نہیں دیکھا۔ان ملازمین نے سی این ایس کو فون کر کے بتایا کہ حملے کے بعد گورنمنٹ کوارٹروں میں رہا ش پذ یر کشمیر یوں کے اہلخا نہ سہم گئے ۔ جموں کے جانی پورہ سے ان ملازمین نے سی این ایس کو بتایا کہ بڑا ہجوم یہاں سرکار ی کوارٹروں میں گھس گیا اور انہوں نے یہاں کشمیر ی ملازمین پر حملہ کرنے کی کوشش کی جب کشمیر یوں کو لگا ہے کہ ان کی جان کو خطر ہ لاحق ہو سکتا ہے تووہ سر کار ی کوارٹروں سے باہر آ گئے اور انہوں نے بھی زوردار احتجاج کیا جس کے بعد حملہ آور بھاگ گئے ۔ کشمیر ی ملازمین نے الزام عائد کیا کہ یہاں تعینات پولیس اہلکار خا موشی تماشی بن بیٹھے اور انہوں نے حملہ آ وروں کو روکنے کیلئے کچھ بھی نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس حملہ کے بعد ان کے جان کو خطر ہ لاحق ہو گیا ہے۔ اھر بھٹند ی سنجیوں مارکیٹ جہاں ہفتہ کودوسر ے روز بھی معمول کا کاروبار شروع ہو نے والا ہے میں پولیس نے زبردستی دکان بند کروائیے۔ یہاں چونکہ مسلم اکثر یت ہے اور دکانداروں نے اس ضمن میں زوردار احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے حلات بالکل نارمل تھے اور پولیس کی طرف سے دکاند بند کروانے کے بعد یہاں بھی حالات بگڑ سکتے ہیں۔ شہر میں آ ج دوسرے روز بھی کرفیو کا نفاذ رہااور فوج کے ساتھ ساتھ دیگر فورسز کی خدمات بھی حاصل کی گئیں جس دوران گوجر نگر، شہیدی چوک، جانی پور ، پرانی منڈی ، پکہ ڈنگا، وزارت روڈ، ریہاڑی ، نیو پلاٹ ، گمٹ ، پریم نگر اور نڑوال علاقوں میں فوج اور دیگر اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔فوج گوجر نگر، جانی پور ، شہیدی چوک، تالاب کھٹیکاں و دیگر علاقوں میں فلیگ مارچ کئے۔ حکام نے دوسرے روز احتیاطی طور پر انٹرنیٹ خدمات کو بدستور معطل رکھاہواہے جبکہ براڈ بینڈ سروسز کی سپیڈ بھی کم کردی گئی۔ ادھر دہلی ، راجھستان اور دیگر شہروں میں اس صورتحال سے جموں میں مقیم مقامی و غیر مقامی مسلمانوں میں شدید خوف و ہراس پایاجارہاہے اور وہ خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ان کشمیر کو گھر لوٹنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ادھر دہرادون میں مقیم کشمیری طالب علموں کو کرایہ داروں کی طرف سے کرایہ پر لئے گئے کمرے واپس لے لئے گئے ہیں۔اسدوران نئی دلی میں کْل جماعتی میٹنگ کے بعد جاری گئی ، جو جنوبی کشمیر کے لیتہ پورہ میں حالیہ جنگجوؤں کے خود کش حملے کے پس منظر میں بھلائی گئی تھی۔میٹنگ کے دوران بھی بھارت کے مختلف حصوں میں کشمیری طالب علموں کو ملنے والی دھمکیوں کے بارے میں تبادلہ خیال ہوا۔
Comments are closed.