بیرون ریاستوں میں زیر تعلیم کشمیر ی طلاب پر حملوں کا سلسلہ جاری

اب چندی گڑھ کالج میں کشمیری طلاب پر حملہ ، چار کشمیری طلبہ زخمی ، والدین میں تشویش

سرینگر: بیرون ریاست کے تعلیمی داروں میں کشمیری طلبہ پر حملوں میں تیزی کے بیچ بدھ کو چندی گڑھ کے ایک کالج میں کشمیری طلاب پر حملے کا ایک اور معاملے سامنے آیا جس دوران چار کشمیری طلبہ زخمی ہو گئے جن کو علاج و معالجہ کیلئے اسپتال منتقل کیا گیا ۔ حملے کے بعد بیرون ریاستوں میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ کے والدین میں کافی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ اپنے بچوں کی سلامتی کو لیکر کافی فکر مند نظر آتے ہیں ۔ سی این آئی کے مطابق بیرون ریاستوں میں کشمیری طلبہ پر حملوں کے واقعات میں کافی اضافہ دیکھنے کو ملا رہا ہے جس کی تازہ کڑی کے تحت بدھ کو چھتیس گڑھ کے رائی پور علاقے میں ایک تربیتی پروگرام کے دوران کشمیری طلاب پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں چار کشمیری طالب علم زخمی ہوگئے۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حمایت پروجیکٹ کے تحت چھتیس گڑھ میں تربیت حاصل کرنے والے34کشمیری طلاب پرگذشتہ شام دیشا انسٹی چیوٹ آف منیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی کے کینٹین میں حملہ ہوا۔حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کشمیری طلاب نے مقامی خبر رساں ادارے کو چندی گڑھ سے فون پر بتایا کہ تربیتی پروگرام کے دوران ان پر تیز دھار والے ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ اْن پر اْس وقت حملہ ہوا جب وہ کینٹین میں رات کا کھانا کھانے پہنچے اور ایک کشمیری طالب علم کا مہاراشٹرا کے ایک طالب علم کے ساتھ توتو میں میں ہوا۔انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں ہوسٹل کمروں تک ہانکا گیا جس کے بعد مہا راشٹرا اور بعض مقامی طالب علموں نے اْن کا سامان بھی تہس نہس کیا۔حملے میں جن کشمیری طالب علموں کو چوٹیں آئی ہیں اْن میں زاہد وانی ساکنہ نادی ہل،محسن اور نوید ساکنان پازلپورہ اور فیصل ساکنہ پتو شاہی بانڈی پورہ شامل ہیں۔سبھی کشمیری طالب علموں کا تعلق ضلع بانڈی پورہ سے ہے۔ کشمیری طلاب نے الزام عائد کہا کہ مقامی پولیس کی طرف سے اْنہیں کوئی تعاون نہیں مل رہا ہے حالانکہ اْنہوں نے پولیس کو بھی معاملے سے متعلق آگاہ کر رکھا ہے۔دیشا انسٹی چیوٹ سے وابستہ آفیسر، سونو سنگھ کا کہنا تھا کہ بعض طالب علموں کے مابین معمولی جھگڑے کے بعد معاملے کو وہیں نپٹایا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بدھ کی شام دو طالب علموں میں کسی بات کو لیکر معمولی جھگڑا ہوا جس کے بعد اس کو کالج انتظامیہ نے از خود نپٹا کر حل کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری طالب علموں کی حفاظت کیلئے کالج میں سیکورٹی بھی بڑھا دی گئی ہے اور اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ آئندہ کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آئے گا ۔

Comments are closed.