ویڈیو: سخت سیکورٹی کے بیچ گزشتہ 20سالوں میں سرینگر جموں شاہراہ پر اپنی نوعیت کا پہلا فدائین طرز حملہ

لیتہ پورہ اونتی پورہ کے نزدیک سی آر پی ایف گاڑی کو بارودی سرنگ دھماکہ سے اڑا گیا ، 20اہلکار ہلاک ، 15سے زائد زخمی
عسکری تنظیم جیش محمد کی ذمہ داری ، حملہ آور کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ، جنوبی کشمیر میں ہائی الرٹ جاری

 

سرینگر/14فروری/سی این آئی/ سرینگر جموں شاہراہ پر لیتہ پورہ اونتی پورہ کے نزدیک جمعرات کو اس وقت خوف و دہشت پھیل گئی جب جنگجوؤں نے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہوئے سی آر پی ایف کانوائی میں شامل ایک گاڑی کو فدائین حملے کی طرز پر بادوری سرنگ سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار 20 سی آر پی ایف اہلکار ہلاک جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہوگئے جن میں سے کئی ایک کی حالت ناز ک بتائی جا رہی ہے ۔حملے کے فورا بعد فوج و فورسز اور پولیس کے اعلیٰ افسران جائے واردات پر پہنچ گئے جنہوں نے حالات کا جائیزہ لیکر پورے علاقے میں تلاشی آپریشن شروع کیا جو آخری اطلاعات ملنے تک جاری تھا ۔ ادھر عسکری تنظیم جیش محمد نے فدائین حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے حملے آور جنگجو کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل کی ہے ۔ سی این آئی کو دفاعی ذرائع سے ملی تفصیلات کے مطابق جموں سرینگر شاہراہ پرلیتہ پورہ اونتی پورہ کے نزدیک جمعرات کو قریب 3بجکر 15منٹ پر اس وقت سنسنی پھیل گئی جب جنگجوؤں نے جموں سے سرینگر کی طرف آرہی سی آر پی ایف کی کانوائی میں شامل ایک گاڑی کو بارودی سرنگ سے اڑا دیا ۔ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سی آر پی ایف کانوائی سرینگر کی طرف آ رہی تھی کہ گنڈی پورہ لیتہ پورہ کے نزدیک جوہی کانوائی پہنچی تو وہاں ایک ماروتی کار جس میں بادری سرنگ نصب تھی گاڑی سے ٹکرائی جس کے ساتھ ہی گاڑی کے پرخچے اڑ گئی ۔ذرائع کے مطابق دھماکے کے ساتھ ہی گاڑی مکمل طور تباہ ہو گئی جبکہ اس میں سوار 12اہلکارموقعہ پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ 15شدید زخمی ہو گئے جن میں سے مزید 8 اسپتال میں دم توڑ بیٹھے جس کے ساتھ ہی حملے میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد 20تک پہنچ گئی ۔ ذرائع نے بتایا کہ علاقے میں ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی جس کے بعد علاقے میں لوگوں کو بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔ذرائع کے مطابق اس دوران فورسز کی مزید کمک جائے واردات پر پہنچ گئے اور علاقے کو محاصرے میں لیکر جنگجوؤں کے خلاف آپریشن شروع کیا تاہم کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ۔ سی آر پی ایف کے ایک افسر نے مقامی خبر رساں ایجنسی کے ساتھ بات کرتے ہوئے حملے میں 20سی آر پی ایف اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں دس سے زائد اہلکار زخمی ہو گئے جن کو علاج و معالجہ کیلئے اسپتال منتقل کیا گیا ۔ ادھر عسکری تنظیم جیش محمد نے حملے کو فدائین طرز کا حملہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ حملہ مقامی جنگجو کمانڈوز نے کیا جبکہ حملہ آور جنگجو کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی ہے ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ 20سالوں میں وادی کشمیر میں ایسا بڑا حملہ ہوا جس کے بعد پورے جنوبی کشمیر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے ۔

Comments are closed.