ویڈیو: رتنی پورہ پلوامہ میں خونین معرکہ آرائی ،مقامی حزب جنگجو جاں بحق ، دو فرار

فائرنگ کے تبادلے میں فوجی اہلکار ہلاک ، ایک زخمی ، علاقے میں پُر تشدد جھڑپیں
چار مرتبہ نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مقامی جنگجو آبائی علاقے میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد خاک

 

سرینگر/12فروری/سی این آئی/ محض ایک دن کے بعد جنوبی ضلع پلوامہ کے رتنی پورہ علاقے میں شبانہ خونین معرکہ آرائی میں مقامی حزب جنگجو جاں بحق ہو گیا جبکہ دو مزید فورسز کو چکمہ دیگر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔ جبکہ طرفین کے مابین ایک فوجی اہلکار بھی ہلاک ہو گیاجبکہ دو دیگر زخمی ہو گئے ۔جھڑپ میں مقامی جنگجو کی ہلاکت کی خبر پھلتے ہی پلوامہ کے کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی اور مشتعل مظاہرین اور فورسز کے مابین شدید پتھرائو اور ٹیر گیس شیلنگ ہوئی جس دوران کئی افراد مضروب ہوگئے۔ اسی دوران چار مرتبہ نماز جنازوں کی ادائیگی کے بعد مقامی جنگجوکو ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں آبائی علاقے میں اسلام و آزادی کے حق میں فلک شگاف نعروں کے بیچ سپرد خاک کیا گیا ۔ اسی دوران جھڑپ کے ساتھ ہی جنوبی قصبہ پلوامہ میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات بند کی گئی ۔سی این آئی کو دفاعی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ رنتی پورہ پلوامہ میں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج و فورسز ، سی آر پی ایف اور ایس او جی نے علاقے کوسوموار اور منگل کی درمیانی رات کو محاصرے میں لیا اور وہاں جنگجو مخالف آپرین شروع کیا ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں اُس گولیوں کی گن گرج سنائی دی جب منگل کی صبح علاقے میں محصور جنگجوئوں نے فرار ہونے کی کوشش میں فورسز پر اندھا دھند گولیاں چلائی جس کے نتیجے میں دو فوجی اہلکار زخمی ہو گئے جن کو علاج و معالجہ کیلئے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایک اہلکار زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں جھڑپ کے ساتھ ہی فورسز نے محاصرہ تنگ کیا اور جنگجو ئوں کے فرار ہونے کے تمام راستے سیل کر دئے ۔معلوم ہوا ہے کہ فورسز اور جنگجوئوں کے مابین گولیوں کا کا تبادلہ کچھ دیر تک جاری رہا جس دوران فورسز نے مکان میں چھپے بیٹھے جنگجوئوں کو سرنڈر کرنے کی پیشکش کی تاہم وہ بضد رہے جس دوران طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔معلوم ہوا ہے کہ فورسز نے رہائشی مکان پر مارٹر گولے داغے جس کے نتیجے میں مکان زمین بوس ہو گیا ہے اور فوج نے مکان کے ملبے سے ایک مقامی جنگجو جس کی شناخت ہلال احمد راتھر عرف ابو زرار ولد غلام احمد راتھر ساکنہ بیگم باغ کاکا پورہ کے بطور ہوئی جبکہ مزید دو جنگجو مبینہ طور فورسز کو چکمہ دیکر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق جاں بحق جنگجو کے قبضے سے بھاری مقداد میں اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط کیا گیا ہے ۔ ادھر کاکا پورہ پلوامہ میںمقامی جنگجو کی ہلاکت کی خبر جونہی پھیل گئی تو بڑی تعداد میں نوجوان سڑکوںپر نکل آئے او رپولیس و فورسز پر سنگ باری شروع کی ۔تشدد پر اُتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے پولیس و فورسز نے آنسو گیس کے گولے داغے ، پیلٹ گولیوں اور پیپر گیس کا بھی استعمال کیا تاہم صورتحال قابو سے باہر ہوگئی ۔ مقامی جنگجو کے جاں بحق ہونے کی خبر پھیلتے ہی پلوامہ کے بیشتر علاقوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز ہوگئے اور پبلک و نجی ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہوگئی۔ مختلف کاموںکے سلسلے میں اپنے گھروں سے باہرنکلنے والے لوگ عجلت میں واپس اپنے گھروں کو لوٹ گئے ۔ادھر پولیس ترجمان کی طرف سے موصولہ بیان کے مطابق ایک مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد سیکورٹی فورسز اور پولیس نے درمیانی رات کو رتنی پورہ پلوامہ میں تلاشی آپریشن شروع کیا جس دوران علاقے میں موجود جنگجوئوں نے حفاظتی عملے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی۔ ابتدائی گولیوں کے تبادلے میں فوج کے دو اہلکار زخمی ہو گئے جنہیں علاج ومعالجہ کی خاطر فوری طورپر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم فوجی جوان زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا جبکہ دو اہلکاروں کی حالت مستحکم بتائی جار ہی ہے۔چنانچہ حفاظتی عملے نے بھی جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں جنگجو ہلاک ہوا جس کی شناخت ہلا ل احمد راتھر ولد غلام محمد راتھر ساکنہ بیگم باغ کاکا پورہ بطور ہوئی ہے۔ مہلوک جنگجو کا تعلق عسکری تنظیم حزب المجاہدین سے تھا اور وہ پولیس وفورسز کو کئی کیسوں میں مطلوب تھے۔ مارا گیا جنگجو پولیس وفورسز پر حملوں ، عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں اور دیگر تخریبی سرگرمیوں میں پیش پیش تھا ۔ پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔ جھڑپ کی جگہ بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود اور قابلِ اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔ عوام الناس سے ایک بار پھر التماس ہے کہ وہ جھڑپ کی جگہ جانے سے گریز کریں کیونکہ وہاں پر ممکنہ بارودی مواد موجود ہونے کے باعث خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔لوگوں سے گذارش کی جاتی ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ اس سلسلے میں تعاون کریں اور جب تک جھڑپ کی جگہ کو صاف کرکے محفوظ قرار نہ دیا جائے تب تک تصادم کی جگہ جانے سے اجتناب کیا جائے۔اسی دوران جونہی ہلال احمد کی نعش آبائی علاقے میں پہنچائی گئی تو وہاں کہرام مچ گیا جبکہ لوگوں کی بھاری تعداد نے بیگم باغ کاکا پورہ کا رخ کیا جس دوران انہوں نے اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ پلوامہ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے بیگم باغ کاکا پورہ کا رخ کیا جس دوران انہوں نے مہلوک جنگجو کے نماز جنازہ میں شرکت کی جس کے بعد جنگجو کو آبائی علاقے میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا۔

Comments are closed.