سرینگر جموں شاہراہ پر 4ہزار سے زائد گاڑیاں چار روز سے مسلسل درماندہ

فوت شدہ افراد کی نعشیں بھی گاڑیوں میں ،ہزاروں کی تعداد میں درماندہ مسافروں کو شدید دشواریوں کا سامنا

سرینگر: سرینگر جموں شاہراہ پر قریب 4ہزار سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاںدرماندہ ہے جن میں زیادہ تر تعداد ٹرکوں کی ہیں جو دونوں جانب گذشتہ ایک ہفتے سے شاہرہ پر درماندہ ہیں تاہم دیگر چھوٹی گاڑیاں چار دنوں سے شاہراہ پر درماندہ ہوکے رہ گئیں ہیں ۔جبکہ شاہراہ پر فوت شدہ افرادکی میتیں بھی گاڑیوں میں پڑی ہوئی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی میں گذشتہ دنوں ہوئی سخت ترین برفباری کے نتیجے میں جواہر ٹنل کے نزید بھاری برفباری اور برفانی تودے گرآنے کے ساتھ ساتھ کئی جگہوں پر پسیاں گرآنے کے نتیجے میں شاہراہ پر دونوں جانب ٹریفک بند ہے ۔ اس دوران معلوم ہوا ہے کہ شاہراہ ر دونوں جانب 4ہزار سے زائد گاڑیاں درماندہ ہیں جن میں سے زیادہ تعداد ٹرکوں کی ہیں جو گذشتہ سات روز سے دونوں جانب درماندہ ہیں جبکہ چھوٹی گاڑیاں اور دیگر مسافر گاڑیاں گذشتہ چا رروز سے شاہراہ پر درماندہ ہے۔ شاہراہ مسلسل بند رہنے کے نتیجے میں وادی کا بیرون دنیا سے زمینی رابطہ مسلسل چار روز سے منقطع ہے ۔ اس دوران معلوم ہوا ہے کہ شاہرہ پر فوت شدہ افراد کی میتیں بھی درماندہ گاڑیوں میں پڑی ہوئی ہیںاور ان کو میتوںکو اپنے ورثاء کے حوالے کرنے کیلئے کوئی بھی قدم نہیں اُٹھایا جارہا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ شاہراہ پر پساں گرآنے اور چٹانیں سرکنے کی وجہ سے ٹریفک ناقابل آمدورفت ہے اور ٹریفک کی آواجاہی کیلئے فی الحال بند ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ گذشتہ دنوں ہوئی بھاری برفباری اور بارشوں کے نتیجے میں شاہراہ پر رام بن اور دیگر جگہوں پر بھاری بھرکم چھٹانیں کھسک کر شاہرہ پر گرآئی ہیں جبکہ کئی جگہوں پر سڑک دھنس گئی ہے اور موسم کی ابتر صورتحال کی وجہ سے اس کی فوری مرمت ممکن نہ ہوسکی ۔ ادھر لداخ گریز اور کرناہ ٹنگڈار و دیگر علاقوں کا رابطہ بھی ضلع ہیڈ کوارٹروں سے کئی روٹ سے کٹ کر رہ گیا ہے ۔ اور لداخ کا سرینگر سے ماہ دسمبر سے رابطہ منقطع ہے ۔ دریں اثناء معلوم ہوا ہے کہ سرینگر جموں شاہراہ کو قابل آمدورفت بنانے کیلئے متعلقہ ادارے دن رات کام پر لگے ہیںتاہم بار بار پسیاں گرآنے کے نتیجے میں کام میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے ۔ یاد رہے کہ شاہراہ پر چٹانیں اور پسیاں گرآنے کے نتیجے میں گذشتہ روز دو افراد لقمہ اجل بن گئے تھے جو شاہراہ پر پیدل سفر کررہے تھے ۔

Comments are closed.