ان کی یاد میں دنیا بھر میں مجالس کا اہتمام کیا جائے گا
سرینگر: جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے محبوس چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا کہ شہید بابائے قوم محمد مقبولؒ بٹ ایک نظریہ ساز قائد، ایک مجاہد، ایک مخلص مزاحمت کار اور ایک اعلیٰ دانشور تھے جنہوں نے اپنی مادر وطن کو اغیار کی غلامی سے خلاصی دلانے کا خواب دیکھا، اس خواب کی تکمیل کیلئے جدوجہد کی اور اسی راہ عزیمت میں اپنی جان کی بازی تک لگادی۔ انہوں نے کہا کہ شہید بابائے قوم ؒ کی جدوجہد و شہادت ہماری تاریخ کا تابناک ورق ہے جو مزاحمت و مقاومت کے جاری سفر میں ہماری راہنمائی کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہید محمد مقبولؒ ہی تھے جنہوں نے ملت کشمیر کی ہر میدان بشمول سفارتی، سیاسی، عسکری اور دانشوری جیسے محاذوں پرراہنمائی کی اور ہمارے لئے مشعل راہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ شہید مقبولؒ بٹ نے جموں کشمیر کو بیرونی قبضے سے آزاد کرانے کیلئے جدوجہد شروع کی اور اس راہ میں جانفشانی کرتے ہوئے اپنے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے میں جٹ گئے اور بالآخر اسی راہ میں اپنی جان کی بازی لگادی ۔ انہوں نے کہا کہ شہید بابائے قو م محمد مقبولؒ بٹ کی جدوجہد اور قربانیاں کشمیریوں کی تحریک آزادی کے بنیادی ستون ہیں جو کشمیریوں کو تحریک مزاحمت میں ہمیشہ مشعل راہ بنے رہیں گے۔فرنٹ چیئرمین نے کہا کہ 11؍ فروری1984 ء کے دن بھارتی حکمرانوں نے کشمیریوں کے اس بے لوث قائد کو تختہ دار پر لٹکاکر یہ گمان کیا کہ انہوں نے کشمیریوں کی آواز کو دبادیا ہے لیکن حق یہ ہے کہ بھارت اپنی اس کاوش میں ناکام ہوا اور مقبول ؒ بٹ کی شہادت کے بعد کشمیر کے ہر گھر اور ہر گلی سے ہزاروں مقبولؒ پیدا ہوئے جنہوں نے بھارت کے ناجائز تسلط کے خلاف جدوجہد کو جاری رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی شہید بابائے قوم ؒ کی جسد خاکی اور باقیات تہاڑ جیل میں قید ہے اور کشمیری ان کی وطن واپسی کیلئے برسر جدوجہد ہیں۔ شہید محمد مقبولؒ بٹ کو عظیم بابصیرت قائد اور نظریہ ساز قرار دیتے ہوئے یاسین صاحب نے کہا کہ شہید فرزند کشمیر محمد اٖفضل گورو نے بابائے قوم ؒ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تختہ دار کو چوم لیا اور یوں ایک مثال قائم کردی جو تادیر قائم رہے گی۔یاسین ملک نے کہا کہ ان شہداء نے ہمارے کل کیلئے اپنے آج کو قربان کردیا اور اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انکی قربانیوں کے امین و وارث بنکر ان کے مشن کو مطلوبہ مقصد تک پہنچانے کی سعی کرتے رہیں۔یاسین صاحب نے کہا کہ بھارتی حکمرانوں نے نہ صرف یہ کہ ہمارے ان دو سپوتوں کو تختہ دار پر لٹکاکر شہید کیا بلکہ ان کی اجساد خاکی تک کو ورثاء کے حوالے نہ کیا اور یوں ان شہداء کو شایان شان طریقے پر تدفین سے بھی محروم رکھا۔ یہ دراصل دنیا کے ضمیر پر ایک بدنما داغ ہے جو آج تک کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ تک میں ناکام رہی ہے۔یاسین صاحب نے کہا کہ جموں کشمیر کے لوگ اس برس بھی خوابیدہ عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کیلئے دنیا بھر میں احتجاج درج کرائیں گے۔شہید بابائے قوم ؒ کی شہادت کے سلسلے میں منعقد کئے جارہے پروگراموں کی تفصیل دیتے ہوئے جے کے ایل ایف چیئرمین نے کہا کہ پوری دنیا میں رہائش پذیر کشمیری شہید بابائے قوم ؒ کی ۳۵ویں یوم شہادت کے حوالے سے مختلف احتجاجی پروگرام منعقد کریں گے اور ۱۱؍ فروری یوم مقبولؒ کو ایک قومی دن کے طور پر منایا جایا گا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے زیر تسلط جموں کشمیر میں اس حوالے سے اعلان شدہ مشترکہ مزاحمتی قیادت کے پروگرام کو من و عن عملایا جائے گا اور09فروری اور11؍ فروری کے ایام پر مکمل اور ہمہ احتجاجی ہڑتال کی جائے گی۔ اس کے علاوہ 10؍ فروری کو وادی کی ہر مسجد میں شہداء کے حق میں دعائیہ مجالس کا انعقاد کیا جائے گا۔11؍ فروری سوموار کو بھی پوری وادی میں مکمل اور ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کی جائے گی جبکہ اسی دن سرینگر کے مرکز لال چوک میں ایک احتجاجی مظاہرہ بھی منعقد ہوگا جس میں شہید بابائے قوم محمد مقبول بٹ اور شہید محمد افضل گورو کی اجساد خاکی اور باقیات کی کشمیریوں کو واپسی کے مطالبہ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام یادداشت روانہ کی جائے گی جس میں دونوں مصلوبین کی باقیات کی کشمیر واپسی کا مطالبہ دہرایا جائے گا۔ اس کے11؍ فروری کو ہی لبریشن فرنٹ کے اہتمام سے بھی وادی کے ہر ضلع مقام پر شہید بابائے قوم ؒ کو خراج عقیدت ادا کرنے پروگرام منعقد ہوں گے جبکہ اسی حوالے سے بابائے قومؒ کے آبائی گاؤں ترہگام کپوارہ میں بھی ایک عوامی مجلس منعقد ہوگی جس میں لبریشن فرنٹ قائدین و اراکین شہید بابائے قوم ؒ کو خراج عقیدت ادا کریں گے۔ یوم مقبولؒ کے سلسلے میں دنیا بھر میں مقیم کشمیری بھی کئی نوع کے پروگرام ترتیب دے چکے ہیں جس کے تحت دنیا بھر کے بڑے بڑے شہروں میں پُرامن دھرنے، جلوس، ریلیاں ،سمینار اور سمپوزیم منعقد ہونگے۔ اسی سلسلے میں پاکستان کے شہروں اسلام آباد، لاہور، کراچی، کوئٹہ وغیرہ میں بھی پروگرام منعقد ہونگے۔ اسی نوعیت کے پروگرام امریکہ،برطانیہ،پوروپ،کینڈا،جرمنی،متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے دوسرے شہروں میں بھی منعقد ہونگے۔ لندن میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے اہتمام سے بھارتی ہائی کمیشن کے باہرایک دھرنا بھی دیا جائے گا اور ایک یادداشت بھی پیش کی جائے گی جس میں بھارتی حکومت پر زور دیا جائے گا کہ شہید محمد مقبول بٹ اور شہید افضل گورو کی اجساد خاکی اور باقیات کو قید سے آزاد کرکے کشمیریوں کے سپرد کیا جائے۔ یوکے زون کے دوسرے فرنٹ یونٹ بھی یوم مقبولؒ کے حوالے سے سمینار اور سمپوزئم منعقدہو کریں گے جبکہ یورپی یونین کے شہروں برسلز بلجیم،فرانس،فن لینڈ،جرمنی،اٹلی اور اسپین وغیرہ میں بھی بھارتی سفارت خانوں کے باہر مظاہرے منعقد ہوں گے۔ علاوہ جے کے ایل ایف گلف زون سعودی عرب کے شہروں ریاض،جدہ،دمام، متحدہ عرب امارات کے شہروں دبئی،شارجہ،ابوذہبی اور قطر کے شہر دوحا میں بھی فرنٹ کے اہتمام سے پروگرام منعقد ہوں گے۔ جے کے ایل ایف آزاد کشمیر کے اہتمام سے آزاد کشمیر کے جملہ شہروں جن میں باغ، راولا کوٹ،میر پور، کوٹلی،مظفر آباد ،گلگت وغیرہ قابل ذکر ہیں میں بھی احتجاجی پروگرام منعقد ہونگے جن میں شہداء کشمیر بالخصوص شہید بابائے قوم محمد مقبولؒ بٹ کی قربانیوں اور انکے ویژن کو اُجاگر کیا جائے گا۔ان پروگراموں اور احتجاجی مظاہروں کے دوران شہید بابائے قوم محمد مقبول ؒ بٹ کی جسد خاکی اور باقیات کی ان کے مادر وطن واپسی کی مانگ کے ساتھ ساتھ شہید قائد کے اصول، نظریات، جدوجہد اور قربانیوں کو بھی اجاگر کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں ان پروگراموں کے دوران چکوٹھی آزاد کشمیر میں ۱۹۹۲ ء میں درجۂ شہادت پر فائز ہونے والے۷ فرنٹ شہداء کی قربانیوں کو بھی یاد کیا جائے گا اور انہیں خراج عقیدت ادا کیا جائے گا۔ متذکرہ بالا پروگراموں کی تفصیل دیتے ہوئے فرنٹ محبوس چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا کہ ایک زندہ قوم کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے شہداء خاص طور پر اپنے عظیم قائد شہید محمد مقبولؒ بٹ کے مشن ، جدوجہد اور قربانیوں کو نئی نسل تک پہنچانے کی سعی مسلسل کریں۔
Comments are closed.