لوک سبھا الیکشن کے بعد ہند و پاک مذاکرات بحال ہونے کی اُمید/ فاروق عبداللہ

آسمان چھوتے ہوائی کرائیوں اور سرینگر جموں شاہراہ کا معاملہ متعلقہ مرکزی وزیروں کیساتھ اُٹھایا
پی ڈی پی ضلع صدر بارہمولہ و بانڈی پورہ ارشاد رسول کار اور پیپلز کانفرنس لیڈر عبدالرحیم وانی نیشنل کانفرنس میں شامل

سرینگر: لوک سبھا انتخابات کے بعد ہندوستا ن اور پاکستان کے درمیان مذاکراتی عمل کی بحالی کی اُمید ظاہر کرتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ پوری دنیا میں آج مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے اور مجھے اُمید ہے کہ عمران خان اور مرکز میں بننے والی نئی حکومت مسئلہ کشمیر سمیت تمام حل طلب معاملات پر مذاکرات کی پہل کریں گی، اسی سے دونوں ممالک کے درمیان مضبوطی دوستی ہوگی اور ہمارے سر پر جو مصیبت ہے وہ بھی دور ہوجائے گی۔سی این آئی کے مطابق ان باتوںکا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر ایک تقریب کے دوران کیا۔ اس تقریب کا انعقاد پی ڈی پی ضلع صدر بارہمولہ و بانڈی پورہ اور انچارج کانسچونسی سوپور ارشاد رسول کار اور لولاب کے پیپلز کانفرنس لیڈر عبدالرحیم وانی کی نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کرنے کے سلسلے میں کیا گیاتھا۔ پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، شمالی زون صدر محمد اکبر لون، ضلع صدر کپوارہ و ایم ایل سی قیصر جمشید لون، ضلع صدر بارہمولہ جاوید احمد ڈار، پارٹی لیڈران شمی اوبرائے، بشارت بخاری، ڈاکٹر سجاد اوڑی اور شبیر میرنے دونوں کا پارٹی میں خیر مقدم کیا اور پھولوں کے ہار پہنائے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ’’افغانستان کا معاملہ حل کیا جارہا ہے، یہ اچھی بات ہے، یہ ہمارے لئے بھی اچھی بات ہے۔ یہ بات انتہائی حوصلہ افزا ہے کہ طالبان کیساتھ مذاکرات صحیح سمت میں جارہے ، اُمید ہے کہ امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں نکال کر افغان عوام کو اپنا ملک چلانے کا موقع فراہم کریگا۔‘‘ جموںوکشمیر میں یک جماعتی حکومت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ مخلوط حکومت میں کام ڈھنگ سے نہیں ہوتا، متواتر مخلوط حکومتوں سے ریاست کو کافی نقصان اُٹھانا پڑا، ہم نے عمر صاحب کے دورِ حکومت میں بھی دیکھا، ہر ایک کام میں اڑچن آتی ہے، یہاں تک کہ عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں بھی رکاوٹیں لائی جاتی ہیں۔ میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ایک ہی جماعت کو بھر پور منڈیٹ دیں تاکہ اس جماعت کی حکومت بھی بلا اڑچن لوگوں کے مفاد میںکام کرسکے۔ یہ بات ضروری ہے کہ ایک جماعت کو مکمل منڈیٹ دیا جائے جو اکثریت لیکر حکومت بناسکے اور یہاں کے لوگوں کے مسائل و مشکلات دور کریں۔ مضبوط ممبران اسمبلی سامنے آئے اور تینوں خطوں کو خودمختاری دینے کے جیسے اقدامات کو اسمبلی میں بھر پور طریقے سے منظور ہوسکیں۔ برفباری سے پیدا شدہ صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس نے آسمان چھوتی ہوائی کرائیوں پر زبردست برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پارلیمنٹ میں اور متعلقہ وزیر کیساتھ یہ معاملہ اُٹھایا ہے اور مجھے خوشی اس بات ہے کہ گورنر صاحب نے یہ معاملہ وزیر اعظم کیساتھ اُٹھایاہے۔ میںنے متعلقہ وزیر پر زور دیا کہ سرینگر کیلئے ہوائی کرائیوں کو اعتدال میں رکھنے کیلئے ٹھو س اقدامات اٹھائے جائیں اور ہوائی کمپنیوں کی من مانی پر بند کی جائے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ میں نے سرینگر جموں شاہراہ کا معاملہ بھی متعلقہ وزیر شری نتن گڈکری کیساتھ اُٹھایا اور کہا کہ 21ویں صدی میں بھی معمولی سے موسم کی خرابی سے کشمیر پوری دنیا سے کٹ کر رہ جاتا ہے۔ سڑک بند ہونے سے لوگ در بہ در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ کھانے ، پینے اور دیگر ضروریاتِ زندگی چیزیں کی سپلائی بھی سڑک بندہوتے ہیں رک جاتی ہے۔ انہو ں نے کہا کہ میں نے گڈکری صاحب پر زور دیا کہ بانہال سے رام بن سڑک کے کام میں سرعت لائی جائے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ محکمہ کو مزید فعال اور متحرک بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہا کہ سیلاب آیا لیکن ہم نے کچھ نہیں سیکھا، برفباری کے ساتھ ہی سڑکیں اور رابطہ سڑکیں بند ہوجاتی ہیں، ایک حاملہ خاتوں کو 7کلومیٹر کندھوں پر اُٹھاکر ہسپتال پہنچایا گیا ، سرینگر کے ہسپتالوں میں فوت ہوئے افراد کو گھر لیجانے میں کتنی ہی پریشانیاں درپیش آرہی تھیں اور کتنے ہی ایسے معاملات سامنے آرہے ہیں۔ ہمیں ان سب کیلئے تیار رہنا چاہئے۔

Comments are closed.