خود کو کشمیریوں کا ہمدرد جتلانے والوں نے ہی PSAہٹانے کی مخالفت کی/ عمر عبداللہ

سرینگر: جموں وکشمیر کے عوام کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اُن لوگوں کیساتھ چلنا چاہتے ہیں جو ریاست اور ریاستی عوام کا بٹوارا کرنا چاہتے یا اُن کیساتھ جو ریاست کے خطوں اور عوام کو جوڑنا چاہتے ہیں۔ عوام کو اس بات کا بھی فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اُن لوگوں کیساتھ چلنا چاہتے جو ریاست میں فرقہ پرستی کو دوام بخشانا چاہتے ہیں یا پھر اُن لوگوں کیساتھ جو جموں وکشمیر سے کالے قوانین و فرقہ پرستی کا خاتمہ اور مذہبی ہم آہنگی کی مشعل کو فیروزاں رکھنا چاہتے ہیں۔سی این آئی کے مطابق ‘‘ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے آج حلقہ انتخاب بیروہ میں پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ آج ایسے لوگ خود کو کشمیریوں کے لیڈر گردانتے ہیں جو محض سیاست کیلئے ایسے اقدامات کی بھی مخالفت کرتے ہیں جو کشمیریوں کے مفاد میں ہوتے ہیں۔ ’’ میں نے پلوامہ کے پارٹی کنونشن کے دوران جموں وکشمیر سے پبلک سیفٹی ایکٹ کو قانون کی کتاب سے ہٹانے کا اعلان کیا، مجھے اُمید تھی کہ دلی والے، بھاجپا والے یا پھر فوج اس اعلان کی مخالفت کرینگے لیکن ان میں سے کسی نے PSAہٹانے کی مخالفت نہیں کی ،حیرت اس بات سے ہوئی کہ مخالفت کی تو اُن جماعتوں نے جو خود کو کشمیریوں کے ہمدرد جتلاتے ہیں۔ اس کی مخالفت پی ڈی پی والوں اور بھاجپا کے کشمیری دوستوں نے کی۔ آپ خود ہی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ آج میدان میں کون کون سے لوگ ہیں؟‘‘عمر عبداللہ نے کہا کہ ہم ایسے عوامی راحت کے کام پہلی بات نہیں کررہے ہیں، ہم نے ہی AFSPAکو ہٹانے کیلئے سب سے پہلے آواز بلند کی، نیشنل کانفرنس نے ہی سابق حکومت کے دوران پی ایس اے کے قانون میں ترمیم لائی جس کی رو سے نابالغ پر پی ایس اے کا اطلاق نہ کرنے، نظربندی کی معیاد کو ایک سال سے کم کرکے 3ماہ کرنے اور ریاست کی سیکورٹی کیلئے خطرہ کے الزام میں گرفتار شخص کی نظربندی کی معیاد2سال سے کم کرکے 6ماہ کرنے کو منظوری دی گئی۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں یہ کافی نہیں اس لئے ہم اگلی حکومت میں اس کا مکمل خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ مجھے لگا تھا کہ پی ڈی پی والے اور کشمیر میں بھاجپا کے دوست اس اعلان کا خیر مقدم کریں گے اور اس مشن میں ایک ہی صف میں ہونے کا اعلان کریںگے۔ لیکن ایسا نہیںہوا کیونکہ یہ لوگ ہر ایک چیز کو سیاسی ترازو میں تولتے ہیں یہاں تک کہ ان کے آنسو بھی سیاسی ہوتے ہیں۔ پی ڈی پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا کہ جب یہ لوگ حکومت میں ہوتے ہیں تو ان کے آنسو بند ہوجاتے ہیں، تب صرف پیلٹ گن اور بندوق نظر آتے ہیں لیکن جب حکومت نہیں ہوتی تو اچانک ان کو لوگوں کا دکھ اور درد سمجھ میں آنا شروع ہوجاتا ہے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بھی بہنے شروع ہوجاتے ہیں۔ ’’بحیثیت وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی زخمیوں سے ملنے کیوں نہیں گئی؟ تب محبوبہ مفتی نے کور کمانڈر کو فون کیوں نہیں کیا جب بیروہ کے ایک نوجوان کو فوج کی جیپ سے باند کر درجنوں گائوں سے گمایا گیا، جس کا یہی قصور تھا کہ اُس نے ووٹ ڈالا تھا۔ حد تو یہ ہے کہ انسانی حقوق کمیشن نے اس نوجوانوں کے حق میں معاوضے کے طور پر پیسے دینے کی ہدایت دی تھی لیکن محبوبہ مفتی نے اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ اس نوجوانوں کو یہ پیسہ نہ ملے،اور آج مصوفہ روتی ہیں، تب ان کا دل پتھر کیوں بن گیا تھا‘‘۔ پی ڈی پی والے اور محبوبہ مفتی لوگوں کو کچھ زیادہ ہی سادہ لوح سمجھتے ہیں۔عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’آج محبوبہ مفتی آر ایس ایس کی مخالفت کرتی نہیں تھکتی لیکن موصوفہ کو کوئی یاد دلائے کہ انہوں نے ہی بحیثیت وزیر اعلیٰ آر ایس ایس کو جموں کے بیچوں بیچ اور پورے جموں خطے میں ہتھیار بند ریلیاں نکالنے کی اجازت دی۔ عمر عبداللہ نے محبوبہ مفتی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’آج ان آنسوئوں کا کوئی مطلب نہیں ، کیونکہ یہ سیاسی آنسو ہے، یہ آنسو دل کے نہیں دماغ سے ہیں، اگر دل کے آنسو ہوتے تو یہ رکتے نہیں، یہ حکومت کے دوران بھی نظر آتے۔لیکن حکومت میں ایک بار بھی یہ آنسو نظر نہیں آئے،مجھے یاد ہے جب شوپیان میں ایک نوجوان جاں بحق ہو ا تو آپ نے جموں کی ایک تقریب میں کہا ’مجھے تھوڑا افسوس ہے، میں نے سُنا لڑکا مر گیا ‘۔‘‘نیشنل کانفرنس نائب صدر نے کہا کہ ’’کوئی محبوبہ مفتی کو یاد دلائے کہ آپ کی حکومت میں ہی ریاست کا یہ حال ہوا ہے، کرایک ڈائون، آپریشن آل آئوٹ، نوجوانوں کیساتھ زیادتی، توڑ پھوڑ اور گرفتاریاں 2014کے بعد کے حالات ہیں، ہم تو بھول گئے تھے کریک ڈائون کس چیز کو کہتے ہیں۔‘‘ عمر عبداللہ نے کہا کہ ہم لوگوں کو دھوکہ نہیں دیتے، ہم سے جتنا ہوسکتا ہے ہم اُتنے کا ہی وعدہ کرتے ہیں،میں آسمان سے تارے توڑ لانے کے وعدے نہیںکروں گا، ہمارا مقصد ہر ایک کو ساتھ لیکر چلنا ہے اور ہم سب کو ساتھ لیکر چلیںگے۔‘‘ اجلاس سے پارٹی لیڈر تنویر صادق اورپرفیسر عبدالمجید متوبھی موجود تھے۔

Comments are closed.