خصوصی ویڈیو رپورٹ: جی بی پنتھ ہسپتال میں تعینات ڈاکٹروں کی لاپرواہی کا نتیجہ
بچہ ہسپتال میں ایک نوزائد بچی کی ’’بلوور ‘‘کی گرمی سے موت ، معاملے کی تحقیقات کیلئے ٹیم تشکیل
سرینگر/04فروری/سی این آئی/ وادی کے واحد بچہ ہسپتال ’’جی بی پنتھ‘‘میں ایک نوزائد بچہ مبینہ طور پر بلور کی ہیٹ سے دم توڑ بیٹھا ہے جس کے خلاف بچے کے اہلخانہ نے ملوث ڈاکٹروں کے خلاف سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ ادھر محکمہ ہیلتھ نے اس واقع کو سنجیدگی سے لیکر معاملے کیلئے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے جو اپنی رپورٹ 48گھنٹوں کے اندر اندر انتظامیہ کے سپرد کرے گی۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق واد کے واحد اطفال ہسپتال ’’جی بی پنتھ میں ایک نوزائد بچی کی موت میبنہ طور پر بلور کی گرمی کی وجہ سے ہوئی ہے ۔ اس سلسلے میں معلوم ہوا ہے کہ کریری بارہمولہ سے تعلق رکھنے والے کنبہ نے اپنی ایک بچی جو محض پانچ دنوں کی تھی کو2فروری کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا جس کے بعد مذکورہ بچی کو ہسپتال کے (آئی سی یو) انٹنسیو کیر یونٹ یعنی انتہائی نگہداشت وارلے وارڈ میں علاج و معالجہ کے لئے داخل کیا گیا ۔ مذکورہ بچی نے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں جن لیاتھا اور علاج کیلئے مذکورہ ہسپتال کے ڈاکٹروںنے اسے جی بی پنتھ منتقل کیا تھا ۔ بچی کے رشتہ داروں کے مطابق جب انہوں نے اتوار کے روز آئی سی یو میں اپنی بچی کو دیکھا تو اُس کا سارا جسم سرخ ہوچکا تھا ۔ بچی کے اہلخانہ کے مطابق بچی کو گرمی دینے والے بلوئر کے زیادہ نزدیک رکھا گیا تھا جس کی وجہ سے اس کا جسم اندرونی طور پر جھلس گیا جس کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوئی ۔ بچی کی موت ہونے کے بعد جب رشتہ داروں نے ہسپتال عملہ سے بچی کی نعش کو گھر پہنچانے کیلئے ایمبولنس کا مطالبہ کیا تو انہوں نے ایمبولینس دینے سے بھی انکار کیا ۔ مہلوک بچی کے لواحقین نے اس واقع کے خلاف سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچی کی موت کی پیچھے ہسپتال میں تعینات عملہ کی غفلت شعاری اور ڈاکٹروں کی لاپرواہی ہے جس کی جانچ کی جانی چاہئے ۔ اس صورتحال کو سنجیدگی سے لیکر محکمہ ہیلتھ نے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں ڈاکٹر پرویز احمد ، ڈاکٹر شفاعت ڈاک، ڈاکٹر وریندر کمار، ڈاکٹر محمدم مظفر اور ڈاکٹر بسمہ شامل ہیں جو معاملے کی جانچ کرکے اپنی رپورٹ 48گھنٹوں میں انتظامیہ کو سونپ دے گی جس کے بعد اس معاملے میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس دوران جب جی بی پینتھ ہسپتال کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ کے ساتھ بات کرنی چاہئے تاہم ان سے رابطہ نہیں ہوسکا ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جی بی پینتھ ہسپتال غفلت شعاری کے معاملے میں اکثر اخباری سرخیوں میں رہتا ہے تاہم جب بھی مذکورہ ہسپتال کے سپر انٹنڈنٹ سے بات کرنے کی کوشش کی جاتی ہے یا کسی معاملے میں ان سے جانکاری حاصل کرنی مطلوب ہوتی ہے تو وہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے کسی نہ کسی بہانے سے بات کرنے سے انکار کرتے ہیں ۔
Comments are closed.