کشمیری زبان کے اخبارات کو اشتہارات سے محروم رکھنا زبان کے ساتھ ناانصافی قرار
سرینگر: وادی کی مادری زبان کشمیری زبان کے ساتھ سرکار کی طرف سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جارہا ہے ۔ ہر سطح پر کشمیری زبان کو کمزورکرنے کی کوششیں کی جارہی ہے ۔ اس حوالے سے عوامی حلقوںنے کہا ہے کہ وادی کی مادری زبان کو کمزورکرنے کی کسی بھی سازش کوناکام بنایا جائے گا۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی کی مادری زبان کشمیری زبان کے ساتھ سوتیلی ماںجیسا سلوک روا رکھا جارہا ہے ۔ مادری زبان کو ہر سطح پر نقصان پہنچانے کی کوششیں کی جارہی ہے جس کی وجہ سے کشمیری زبان آئے روز کمزور ہوتی جارہی ہے ۔ تعلیمی اداروں میں اس زبان کو نصاب میں شامل ہونے کا معاملہ ہو۔ سکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں اس زبان کو پڑھانے کا معاملہ ہو یا اس کی ترویج کا معاملہ ہو ۔ کشمیری زبان سے جڑے اداروں اور افراد کی اگر مانیں تو سرکار اس زبان کی ترقی میں ناکام ہوچکی ہے اور اس حوالے سے کوئی بھی نیا اقدام نہیں اُٹھایا جارہا ہے ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سرکاری زبان سے تعلق رکھنے والے اخبارات ، صحافیوں اور ادیبوں کی بار بار حوصلہ شکنی کی جارہی ہے ۔ اردو اخبارات کو کمزور کرنے کیلئے جہاں سرکار ذمہ دار ہے وہیں پر اخبارات سے منسلک محکمہ اطلاعات و نشریات کی جانب سے اس زبان کی ترویج میں رُکاوٹیں ڈال دی جارہی ہے ۔ ذرائع نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ اگرچہ گذشتہ روز ریاستی محکمہ اطلاعات و نشریات نے وزیر اعظم کے دورہ وادی کے سلسلے میں تمام اردو اور انگریزی روز ناموں کو اشتہاریات فراہم کئے تاہم کشمیری زبان میں شائع ہونے والے اخبارات کو ان اشتہارات سے محروم رکھا گیا ہے ۔ اس کی مثال ’’معروف کشمیری روزنامہ کہوٹ‘‘سے دی جاسکتی ہے ۔ اگرچہ وادی سے شائع ہونے والے تمام چھوٹے بڑے انگریزی و اردو زبان کے اخبارات کو وزیر اعظم کے دورہ وادی کے موقعے پر اشتہارات فراہم کئے گئے لیکن مذکورہ اخبار کے ساتھ ساتھ دوسرے اخبارات جو کشمیری زبان میں شائع ہورہے ہیں کو اس ان اشتہارات سے محروم رکھ کر کشمیری زبان کے ان اخبارات کو اقتصادی طور کمزور بنایا گیا ۔ اس صورتحال پر عوامی حلقوں نے سخت تشویش اور افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری زبان سے جڑے اخبارات، رسالے،ادارے اور ادبی انجمنوں کو مالی مشکلات میں دھکیل دینے کی کوششوں کے خلاف سختی کے ساتھ مقابلہ کیا جائے گا۔ ادھر گلشن کلچرل فورم کشمیر کا ایک ہنگامی اجلاس زیر صدارت فورم کے صدر سید بشیر کوثر منعقد ہوا. اجلاس میں اس بات پر برہمی کا اظہار کیا گیا کہ محکمہ اطلاعات کی طرف سے کشمیری زبان یکسر نظر انداز کرنے اور کشمیری زبان میں شائع ہونے والے اخبارات کو اشتہارات سے محروم کرنا کشمیری زبان کے ساتھ ناروا سلوک برتنے کے مترادف ہے۔ گلشن کلچرل فورم کشمیر کے جنرل سیکریٹری گلشن بدرنی اور فورم سے وابستہ ادیبوں شاعروں اور کشمیری زبان کے طالب علموں نے محکمہ اطلاعات کو ہدف تنقید بنا کر اس رویے کے خلاف متعلقین کو خبر دار کیا ہے کہ یہ کشمیریت کے خلاف ایک منظم سازش کے ساتھ تعبیر کیا جاے گا۔
Comments are closed.