الیکشن قریب آتے ہی سیاسی پارٹیاں محترک، کوئی پی ایس اے ختم کرنے کا وعدہ کر رہاہے تو کوئی بجلی سڑک ، ترقی اور ملازمت دینے کا وعدہ دے رہا ہے

یہ پبلک ہے یہ سب جانتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔’’اندر کیا ہے باہر کیا ہے ‘‘

سرینگر: الیکشن قریب آتے ہی سیاسی پارٹیاں متحرک ہو گئی ہیں اور اس حوالے سے سیاسی جماعتوں نے عوام سے قریبی تال میل بڑھانے کے لیے سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اقتدار حاصل کرنے کے لیے لیڈران پھر سے پُرانی روایت اپناتے ہوئے بڑے بڑے وعدے کرنے لگے ہیں کوئی پی ایس اے ختم کرنے کا وعدہ کر رہا ہے تو کوئی بجلی پانی تعمیر و ترقی اور ملازمت دینے کا وعدہ دے رہا ہے عوامی حلقے سیاسی جماعتوں سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب آپ اقتدار پر ہوتے ہیں تب یہ کیوں نہیں کرتے جو وعدے آج ووٹ حاصل کرنے کے لیے کر رہے ہو۔اے پی آ ئی کے مطابق کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ ریاست کی سیاست اور موسم میں کب کیا ہوگا کوئی کہہ نہیں سکتا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ریاست کی سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ اپنی کُرسی کا غلط فائدہ اٹھایا ہے اور ہمیشہ کُرسیوں پر بیٹھ کر اپنی تجوریاں بھر ی ہیں۔سیاسی لیڈران نے ہمیشہ عوام سے جھوٹے وعدے دے کر اقتدار حاصل کیا ہے ۔ان سیاسی جماعتوں کی وجہ سے ہی وادی کشمیر جسے جنت بے نظیر کہا جاتا ہے کو جہنم بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی نہ مسئلہ کشمیر حل کروانے میں پہل کی اور نہ ہی تعمیر و ترقی کی طرف توجہ دی۔ لوگوں سے جھوٹے وعدے کرکے کُرسی حاصل کرنا ، ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنا یہی یہاں کی سیاست رہی ہے۔ ریاست میں ایلکشن قریب آتے ہی تمام سیاسی پارٹیوں کی جانب سے سرگرمیاں تیز ہوگئی ہے اور اس حوالے سے سیاسی جماعتوں نے میٹنگ جلسے اور عوام سے قریبی تال میل بنانے کے لیے ان سرگرمیوں میں تیزی لائی ہے۔ جلسوں اورکانفرنسوں کے دوران لیڈران عوام سے بڑے بڑے وعدے پھر سے کرنے لگے ہیں مگر یہ پبلک ہے یہ سب جانتی ہے کہ اند ر کیا ہے اور باہر کیا ہے۔ عوام سیاسی جماعتوں سے پوچھنا چاہتی ہے کہ آج تک آپ لوگوں نے کئی دفعہ اقتدار حاصل کیا اور اقتدار پر بیٹھ کر آپ جو وعدے اس وقت کر رہے ہیں یہ اُس وقت کیوں نہیں کیا جب سب آپ کے پاس تھا۔ گندی سیاست ، جھوٹی سیاست سے یہاں کے لوگو ں کو اب کوئی دلچسپی نہیں رہی ہے ۔اس حوالے سے کئی لوگوں نے کہا کہ یہاں کی سیاست صرف ایک گندے تالاب کی مانند ہے جس میں تمام مچھلیاں ایک جیسی ہیں اور اگر اس تالاب میں کوئی صاف و شفاف ماحول سے آئی ہوئی مچھلی کو ڈالا جائے تو وہ بھی پل بھر میں گندی ہو جائی گی۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہاں کی سیاسی جماعتوں کاصرف ایک ہی مقصد رہا ہے وہ ہے اقتدار عوام جیے یا مرے ان لوگوں کو کائی فرق نہیں پڑتا۔سال 2009 ؁ء میں آسیا او ر نیلوفر کا سانیہ پیش آیا۔ملزمان کو آج تک سز ا نہ مل سکی۔ لواحقیین آج بھی عدل و انصاف کے منتظر! سال 2010میں وادی کے اطراف و اکناف میں نوجوانوں کو پولیس و فورسز نے بے تحاشہ طاقت کا استعمال کرکے جاں بحق کیا۔ہزاروں نوجوانوں کو ایف آئی آر اور پی ایس اے لگا کر انکی زندگی تباہ و برباد کی گئی۔ اُس وقت اقتدار پر وزیر اعلی عمر عبداللہ تھے انہوں نے اُس وقت پی ایس اے کو ختم کیوں نہیں کیا ۔آج بڑے بڑے وعدے کر رہے ہو کہ پی ایس او کو جڑ سے اکھاڑ پھینکوں گا ۔ سال 2016کی یاد تازہ ہی ہے جب وادی کے ہرطرف نوجوانوں پر بے تحاشہ طاقت کا استعمال کرکے بے شمار نوجوانوں کو قبرستان پہنچایا گیا۔ بے شمار نوجوانوں کی آنکھیں پلیٹ گن کے ذریعے محروم کی گئی۔ اقتدار پر اُس وقت وزیر اعلی محبوبہ مفتی تھی کسی ایک واقعے کی تحقیات کروائی ؟ کسی کو سزا دلوائی ؟ آج اقتدار ہاتھ میں نہیں ہے تو آج پھر سے کُرسی حاصل کرنے کے لیے لوگوں سے بڑے بڑے وعدے کیے جارہے ہیں۔

Comments are closed.