ویڈیو: کثیر دائروں والی سیکورٹی بندوبست کے بیچ وزیراعظم کا دورہ ریاست
فورسز کے ساتھ فو ج بھی الرٹ۔ بلوارڈ روڈ بند۔ سینکڑوں موٹر سائیکل ضبط۔
سرینگر: کثیر دائروں والی سیکورٹی بندوبست اور ہڑتالی کال کے بیچ کے بیچ آ ج وزیر اعظم نریندرمودی ریا ست کے دو رے پر آ رہے ہیں۔ جہاں سرینگر میں غیر معمولی حفاظتی انتظامات کو حتمی شکل دی جاچکی ہے وہیں پورے جموں وخطے میں تمام سیکورٹی ایجنسیوں کو متحرک کر دیا گیا ہے۔ شہر سرینگر میں کل تیسر ے روز بھی تلاشیوں اور گاڑیوں کی چیکنگ کا سلسلہ جاری رہا جس دوران دوران اسکوٹر سواروں کیخلاف وسیع کریک ڈاؤن عمل میں لا کر سینکڑوں کی تعداد میں موٹر سائیکلوں کو ضبط کیا گیا۔ادھر ہفتہ کی صبح ایس کے آ ئی سی سی کی جانب جانے والے بلوارڈ روڈ کو ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا۔ اس دوران حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق، تحر یک حریت کے چیر مین محمد اشرف صحرائی اور دیگر قائدین کے علاوہ عوامی اتحا د پارٹی کے چیر مین انجینئر رشید کو بھی گھرمیں نظر بند رکھا گیا۔ سی این ا یس کے مطابق مودی آج دو روزہ دورے پر سرینگر پہنچ رہے ہیں۔ وزیر اعظم مودی اپنے دورے کے دوران بی جے پی کے مضبوط گڑھ جموں میں 35 ہزار کروڑ روپے مالیت کے پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے۔ سرینگر دورے کے دوران مودی ہزار میگاواٹ صلاحیت والے این آر ایس سی پاور ٹرانسمشن پروجیکٹ کو قوم کے نام وقف کریں گے۔ مختلف ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کرنے کے علاوہ وہ شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سنٹرمیں مختلف تقاریب سے خطا ب کریں گے۔وزیر اعظم کے دورے کے پیش نظر ریاست کے تینوں خطوں بالخصوص دونوں دارالحکومتوں سری نگر اور جموں میں کثیر دائروں والی سیکورٹی کا بندوبست کیا گیا ہے۔ سرینگر میں مختلف سڑکوں بالخصوص ائرپورٹ روڑ پر موبائل چیک پوائنٹس قائم کئے گئے ہیں جہاں ریاستی پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔بلیوارڈ اور ائر پورٹ روڑ پر کئی ایک مقامات پر عارضی چیک پوائنٹس قائم کئے گئے ہیں جہاں نہ صرف گاڑیوں کو روک کر ان کی تلاشی لی جاتی ہے بلکہ مسافروں کے شناختی کارڈ بھی چیک کئے جاتے ہیں ۔ سرینگر میں سیکورٹی کو حتمی شکل دی جاچکی ہے جس کے تحت بلیوارڈ سے آگے دو دن تک ہر قسم کی نقل و حرکت پر روک لگا دی گئی ہے۔ جبکہ علیحدگی پسندوں کی ہڑتال کال کے پیش نظر پورے شہر میں سیکورٹی کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔نشاط، شالیمار اور ہارون کیلئے ٹریفک کو خانیار حضرت بل سے جاری رکھا جائیگا۔ شہر کی طرف آنے والے تمام راستوں پر ناکے لگائے گئے ہیں اور گاڑیوں کی باریک بینی سے تلاشی لی جارہی ہے۔ سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کے تحت جھیل ڈل کے گرد و نواح میں بھی نیم فوجی دستوں کو تعینات کر دیا گیا ہے اور خاص کر ایس کے آئی سی سی کو پوری طرح سیل کر دیا گیا ہے ایس کے آ ئی سی سی جانے والی سڑکوں بالخصوص بلیوارڈ روڑ کو ایک روز قبل ہی سیل کردیا گیا۔ اس روڑ پر سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورس اہلکاروں کو تعینات دیکھا گیاسری نگر میں مختلف سڑکوں بالخصوص ائرپورٹ روڑ پر موبائل چیک پوائنٹس قائم کئے گئے ہیں جہاں ریاستی پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ سری نگر کے ائرپورٹ روڑ پر روزانہ کی بنیاد پر سفر کرنے والوں نے بتایا کہ اس روڑ پر کئی ایک مقامات پر عارضی چیک پوائنٹس قائم کئے گئے ہیں۔ ہفتہ کو شہر کے مختلف علاقوں میں تلاشیوں اور چیکنگ کا سلسلہ جاری رہا جس کے دوران موٹر سائیکل چلانے والوں کیخلاف وسیع کریک ڈاؤن عمل میں لای کر سینکڑوں کی تعداد میں موٹر سائیکلوں کو بھی ضبط کیا گیا۔شہر میں داخل ہو نے کے تمام راستوں پر گا ڑیوں کی با ریک بینی سے تلاشی لی جا رہی تھی جبکہ گا ڑیوں میں سوار مسافروں اور راہگیروں کو ہاتھ اوپر کر کے جا مہ تلاشہ لی جا رہی تھی۔شہر کے اہم چوراہوں پر پو لیس نے ڈراپ گیٹ قائم کئے تھے جہاں سے گا ڑیوں کی مکمل تلاشی کے بعد ہی اُنہیںآگے جا نے کی اجا زت دی جا تی تھی ۔عینی شاہدین کے مطابق پولیس اْن متعدد موٹر سائیکلوں کو بھی ضبط کررہی ہے جن کے پاس قانونی دستاویزات بھی موجود ہیں۔پولیس ذرائع نے تاہم کہا کہ موٹر سائیکلوں کو صرف حفاظتی اقدام کے بطور روکا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی موٹر سائیکل کے پاس قانونی دستاویزات موجود نہ ہوں تو صرف اْسی کو ضبط کیا جارہا ہے۔پانپور سے ایک موٹر سائیکل سوار، ریاض احمد کا کہنا ہے کہ اْس کو شہر میں داخل ہونے سے روکا جارہا ہے اور بیسیوں ایسے ہی موٹر سائیکلوں کو پانپور میں پولیس نے روکے رکھا ہے حالانکہ ہر ایک کے پاس قانونی دستاویزات موجود ہیں۔دریں اثناء وزیر اعظم مودوی کے دورے سے قبل پورے شہر سرینگر اور آس پاس علاقوں میں حفاظتی اقدامات سخت کردئے گئے ہیں اور ٹریفک پولیس نے بھی ایڈوائزری جاری کی ہے۔
Comments are closed.