ترال میں جنگجو مخالف آپریشن کے دوران عوامی مزاحمت، فورسز کے ہاتھوں ٹیر گیس شیل لگنے سے ایک خا تون شدید زخمی

سرینگر: ترال میں ایک جنگجو مخالف آپریشن کے دوران لوگوں کی طرف سے کی گئی مزاحمت کے دوران فورسز کے ہاتھوں ٹیر گیس شیل لگنے سے ایک خاتون زخمی ہوئی۔سی این ایس کے مطابق ترال کے بس اسٹیند کے نزدیک اسوقت حالات کشیدہ ہوگئے کہ جب فوج کی راشٹریہ رائفلز ،جموں کشمیر پولس اور سی آر پی ایف کے سینکڑوں اہلکار جنگجووں کی تلاش میں گلاب باغ علاقہ کا محاصرہ کر نے جارہی تھی۔ ترال بس اسٹیند کے نزدیک نوجوان گھروں سے باہر آکر احتجاجی مظاہرے کرنے لگے۔چنانچہ سرکاری فورسز نے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس کا استعمال کیا جس سے مشتعل ہوکر لوگوں نے فورسز پر پتھراو کرنا شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہاں جنگ کا سماں پیدا ہوگیا۔حالات تب اور زیادہ کشیدہ ہوگئے کہ جب فورسز اہلکاروں نے متنازعہ پیلٹ گن چلا ئے۔ نمائند ے کے مطابق نوجوانوں نے ترال بس اسٹینڈ میں فورسز کو سنگباری کا نشانہ بنایا اور فورسز نے جواب میں مظاہرین کیخلاف ٹیر گیس کے گولے داغے۔عینی شاہدین نے کہا کہ ایک ٹیر گیس شیل دلشادہ زوجہ جاوید احمد ریشی کو جا لگا جس سے وہ زخمی ہوگئی۔دلشادہ کو بعد میں ترال اسپتال سے سرینگر منتقل کیا گیا جہاں اسکی حالت نازک بنی ہوئی ہے ۔ایک پو لیس ترجمان نے بتایا کہ علاقے میں جنگجووں کی موجودگی سے متعلق اطلاع ملنے پر گلاب باغ کا محاصرہ کیا گیا تھا تاہم لوگوں نے راستے میں ہی جنگجووں کا بچاو کرنے کیلئے تشدد کیا۔انہوں نے کہا کہ شرپسندوں نے حالات بگاڑ کر امن و قانون کی صورتحال پیدا کی اور اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہے کہ ایک لڑکی کس طرح شدید زخمی ہوگئی۔ اس دوران جھڑ پوں کے بیچ فوج نے آ ری گام علاقہ کی طرف جانے والے تمام راستے انتہائی سختی کے ساتھ سیل کردئے۔کچھ ایک مقام پر کریک ڈاؤن کے دوران نہ صرف مردوں کو نوے کی دہائی کی طرح ایک ہی جگہ جمع کرکے ان کی شناختی پریڈ کروائی گئی بلکہ دوسری جانب رہائشی مکانوں کی تلاشی کا سلسلہ جاری رکھا گیا ۔پولیس کے مطابق ہمیں علاقے میں جنگجوؤں کے چھپے رہنے کے بارے میں اطلاعات موصول ہوئیں تھیں،اور بعد میں تلاشیوں کی کارروائی اختتام کو پہنچی تاہم کہیں پر بھی فورسز اور جنگجوؤں کا آمنا سامنا نہیں ہوا اور نہ کسی کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ معلوم ہواہے کہ جب گلاب باغ فورسز کو کچھ بھی ہاتھ نہیں لگا تو بٹہ گنڈ علاقہ کو محا صر ے میں لیا گیا۔

Comments are closed.