مرحومین اپنے کنبوں کے واحد کمائو تھے ۔ سرکار کے امداد واگذار کرنے کی اپیل
سرینگر/30جنوری: لولاب کپوارہ میں برفانی تودوں کی زد میں آنے والے 2مزدوروں کے اہلخانہ نے سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے گھرون کے واحد کفیل کی حادثاتی موت کے پیش نظر ان کو مالی مدد کی جائے تاکہ ان کے بچے فاقہ کشی سے بچ سکیں ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق رواں ماہ سرحدی ضلع کپوارہ کے وادی لولاب میں دو اشخاص برفانی تودوں کی زد میں آکر زندہ دفن ہوگئے تھے جو اپنے اہلخانہ کے واحد کفیل تھے اور ان کی موت کی وجہ سے ان کا اہلخانہ فاقہ کشی کی کگار پر پہنچ گیا ہے ۔ اس حوالے سے محمد دین حجام کی اہلیہ نے کہا ہے کہ ان کے پانچ بچے ہیں اور سب سے بڑا بچہ 12برس کا ہے اور یہ آنکھوں کی بینائی سے محروم ہے انہوں نے کہا کہ محمد دین ہی ان کے گھر کا واحد کمانے والا تھا جو مزدوری کرکے اپنے اہل و عیال کا پیٹ پالتا تھا تاہم محمد دین کی حادثاتی موت کے سبب ان کا اہلخانہ میں کوئی ایسا فرد نہیں ہے جو کماسکے اسلئے۔ انہوںنے سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انہیں معاوضہ فراہم کریں تاکہ وہ ان کے روزگار کا کوئی وسیلہ پیدا ہوسکے اور ان کے بچے فاقہ کشی سے بچ سکیں ۔ اس کے ساتھ ہی مرنے والے دوسرے شخص بشیر احمد حجام کی اہلیہ نے بھی کہا ہے کہ ان کے ہاں پانچ بچے ہیں اور سب سے بڑا بچہ سات برس کا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ بشیراحمد ان کے گھر کا واحد کفیل تھا جو محنت مزدوری کرکے اہلخانہ کا پیٹ پالتا تھا تاہم برفاتی تودے کی زد میں آنے کی وجہ سے بشیر احمد کی موت کے بعد ان کا کنبہ بے وسیلہ ہوگیا ہے اسلئے انہوںنے سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے حق میں امداد واگزار کی جائے تاکہ ان کے اہلخانہ کا پیٹ پل سکے۔ ادھر مقامی لوگوںنے بھی ضلع انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ مذکورہ کنبوں کے حق میں امداد واگذار کی جائے ۔ اس حوالے سے ضلع ترقیاتی کمشنر خالد جہانگر نے بتایا کہ انہوں نے متعلقہ محکمہ کے افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ مذکورہ کنبوں اور مرنے والوں کے حوالے سے مکمل تفصیلات جمع کریں تاکہ ان کے حق میں امداد واگذار کی جائے ۔
Comments are closed.