بانہال سے رام بن تک 4لین والی سڑک کی تعمیر شاہراہ پر بار بار پسیاں گرآنے کی وجہ

درماندہ مسافروں ورڈرائیوروں کو بنیادی سہولیات دستیاب رکھنے میں محکمہ ڈیزاسٹر منیجمنٹ ناکام

سرینگر/30جنوری: بانہال سے رام بن تک 4لائن سڑک کی تعمیر گزشتہ تین برسوں سے جاری رہنے کے نتیجے میںشاہراہ پر بار بار پسیاں گرآتی ہے جبکہ سڑک بھی بار بھار دھنس جاتی ہے جس کے نتیجے میں سرینگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حمل میں بار بار خلل پڑتا ہے ۔جبکہ شاہراہ بند رہنا موسم کی خرابی پر کم ہی منحصر ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق بانہال سے رام بن تک 2015میں چار سڑکوں والی شاہراہ تعمیر کرنے کے حوالے سے کام شروع کیا گیا تھا اور اُس وقت اس پروجیکٹ کی تکمیل کیلئے محض ایک برس کا وقت دیا گیا تھا تاہم چار برس ہونے کو ہے اس پر کام اھورا ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ 4لائن والی سڑک کو سرینگر جموں شاہراہ کے برلب تعمیر کیا جارہا ہے جس کے نتیجے میںرام بن سے بانہال تک بار بار پسیاں گرآتی ہے اور شاہراہ بار بار بند رہتی ہے ۔ سی این آئی ذرائع کے مطابق شاہراہ بند ہونے کے پیچھے موسم کی ابتر صورتحال نہیں ہے بلکہ موسم کا عمل دخل بہت ہی کم ہے اصل وجہ چار گلیاروں والی سڑک کی تعمیر ہے جو بلکل سرینگر جموں شاہراہ کے برلب تعمیر ہورہی ہے ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اس سڑک کو اگر نالہ کے پاس سے تعمیر کیا جاتا تو سرینگر جموں شاہراہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور ناہی شاہراہ بار بار بند رہتی ۔ ادھر رام سو کے قریب آج بھی پسیاں گرآنے کے نتیجے میں شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حمل منجمد رہی اگرچہ قاضی گنڈ سے ٹریفک صبح حسب معمول جاری رہا تھا رام سو کے قریب پسیاں گرآنے کے نتیجے میں ٹریفک کو کچھ گھنٹوں تک بند کردیا گیا تھا۔ اس دوران معلوم ہوا ہے کہ شاہراہ پر درمانہ مسافروں اور ٹرک ڈرائیورں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ داری محکمہ ڈیزاسٹر منیجمنٹ کا ہے اور اس محکمہ کے ذمہ یہ بات ہے کہ شاہراہ پر درمانہ ہونے والے ٹرک ڈرائیوروں اور دیگر درمانہ مسافروں کیلئے رہائش کی سہولیات ، کھانے پینے کا سامان اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کرنا ہے تاہم اس کام کے نام پر اگرچہ متعلقہ محکمہ سرکاری خزانے سے سالانہ کروڑوں روپے حاصل کرتا ہے تاہم زمینی سطح پر کوئی کام انجام نہیں دیا جارہا ہے اور ناہی درمانہ مسافروںکو متعلقہ محکمہ کی جانب سے کوئی سہولیات دستیاب رکھی جارہی ہے ۔

Comments are closed.