سرینگر:١٤،جنوری ؍کے این این ؍ حریت کانفرنس کے چیرمین اورمتحدہ مجلس علماء کے امیرمیرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے جموںوکشمیر میں ملی وحدت فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول کو قائم رکھنے اور مسلمانوں کے سبھی فرقوں کے درمیان کلمہ وحدت کی بنیاد پر اتحاد و اتفاق کو وقت اور حالات کا ناگزیر تقاضا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے حالات میں جبکہ یہ قوم اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کے حوالے سے جاری جدوجہد میں ایک انتہائی نازک اور فیصلے کُن مرحلے سے گزر رہی ہے ایسے میں ریاست میں صدیوں سے قائم ملی بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول کو بگاڑنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی۔تاریخی میرواعظ منزل سرینگر پر زندگی کے مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کے ساتھ ساتھ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے بااثر علماء کے ایک وفدجس میں مولانا غلام علی گلزار، مولانا شیخ غلام حسین متو، مولانا علی محمد جان، مولانا حکیم سجاد حسین، مولانا نذیر احمد، مولانا غلام مصطفی میر فاطمی، مولانا منظور احمدملک، مولانا عاشق حسین میر وغیرہ سے ملاقات کے دوران میرواعظ نے اُن پر زور دیا کہ یہ علمائے کرام ائمہ مساجد، مفتیان عظام اور دینی تنظیموں کے ذمہ داروں کی ملی اور دینی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوںکو کلمہ وحدت میں پرونے کی ہرممکن کوشش کو بروئے کار لائیں اور یہ قوم جو بلند نصب العین کیلئے ہر روز اپنے لخت جگروں اور عزیزوں کی قربانی پیش کررہی ہے اُس کو ثمر آور بنانے کیلئے ضروری ہے کہ یہاں کے صدیوں سے قائم بھائی چارے کی فضا کو نہ صرف قائم و دائم رکھا جائے بلکہ ملی وحدت کو زک پہنچانے والے بعض ایجنسیوں کی ایما پر کام کررہے عناصر سے بھی ہوشیار رہیں۔ میرواعظ نے کہا کہ علماء اور ائمہ مساجد کا ایک فلاحی اور اتحا و اتفاق سے مزین سماج کی تعمیر میں کلیدی رول ہے اور انہیں چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ملت کی صحیح رہنمائی کا فریضہ انجام دیں۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.