پاکستان کی جارحیت اب حد پار گئی ، معاملہ اقوام متحدہ لیکر جائیں گے/ راجناتھ سنگھ

سرحدوں پر سنیپر فائرنگ سے بھارتی فوجیوںکی ہلاکت ناقابل برداشت

سرینگر/14جنوری: بھارتی فوجیوں کو سنیپر سے نشانہ بنانے کی پاکستان کی کارروائیوں پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ پاکستان کی اس حرکت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں سے پاکستان بھارت کے صبر کا امتحان لے رہا تاہم ہماری فوج بھر پورجواب دینے کی اہل ہے۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ راجناتھ سنگھ نے پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارتی فوجیوں کو سنیپر رائفل سے نشانہ بنانے کی کارروائیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان کی جانب سے بار بار بلا اشتعال کی کارروائیوں کو بھارت ہر گز برداشت نہیں کرسکتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان بھارت کے صبر کا امتحان لینا بند کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ معاملہ برداشت سے باہر چلا جائے اور پاکستان کو اس کا خمیازہ اُٹھانا پڑے ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت ایک امن پسند ملک ہے تاہم امن کاپسند ہونے کامطلب یہ نہیں ہے کہ ہم پاکستان کی ہر کوئی حرکت کو خاموشی کے ساتھ برداشت کریں گے ۔ سماجی ویب سائٹ ٹیوٹر پر متواتر کئی ٹویٹ کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ لکھا تھا کہ ہم اپنے فوجیوں کی ہلاکت پر خاموش نہیں بیٹھ سکتے ہیں ۔ پاکستان بار بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتا آیا ہے جو بین الاقوامی قوانین کے لحاظ سے ناقابل تلافی جرم ہے ۔ انہوںنے کہا کہ بھارت اس حوالے سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یہ معاملہ اُٹھاکر پاکستان کو ننگا کرے گا۔ انہوںنے کہا کہ جموں و کشمیرمیں پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پر پاکستان کی جارحیت پر مرکز کی نظر ہے اور سرحدوں پر پاکستانی کی جارحیت اب ایک سنگین معاملہ بن گیا ہے ۔ جس پر ہمیں سنجیدگی سے غورفکر کرکے کوئی ٹھوس اقدام اُٹھانا چاہئے ۔ یاد رہے کہ گذشتہ برس کے ماہ دسمبر میں کئی بار پاکستانی افواج نے سنیئپر رافیل کا استعمال کرکے بھارتی فوجیوں کو نشانہ بناکر ان کو ہلاک کیا جبکہ گذشتہ روز ایک نئے واقعے میں راجوری کے سرحدی پٹی پر ایک بار پھر پاکستانی فوج نے سنیئپر فائر کرکے ایک فوجی کو زخمی کیا ۔واضح رہے کہ ہندوستان اور پاکستانی افواج کی جانب سے سرحدوں پر باربار جنگ بندی معاہدے کیخلاف ورزیاںرونماء ہورہی ہیں جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور خارجہ معاملات بھی بگڑ ھ گئے ہیں۔ اگرچہ پاکستانی حکمران بار بار بھارت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے تمام معاملات کا حل نکالنے کی بات کرتے ہیں لیکن بھارت مذاکراتی عمل بحال کرنے کے حق میں نہیں ہے۔

Comments are closed.