ویڈیو: عوامی اتحاد پارٹی کی شاہ فیصل کو مشروط حمایت کی پیشکش :انجینئر رشید
وہ اپنے بیان کے حوالے سے سنجیدہ ہوں تو حق خودارادیت کی بات کریں
سرینگر: عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید نے لوگوں سے آئی اے ایس افسر شاہ فیصل کے سیاست میں آنے کے فیصلے کا احترام کرنے کی اپیل کرتے ہوئے فیصل سے بھی لوگوں کو مایوس نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ شاہ فیصل کو ثابت کرنا چاہیئے کہ جو وجوہات انہوں نے نوکری سے مستعفی ہونے کیلئے بتائی ہیں وہ انکے حوالے سے سنجیدہ ہیں اور لوگوں کا اچھا چاہتے ہیں۔آض یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ شاہ فیصل کے نوکری سے مستعفی ہونے سے یہ بات پھر ثابت ہوئی ہے کہ مخلص لوگ راشی سیاسی نظام کے تحت کوئی خدمت نہیں کرسکتے ہیں اور ساتھ ہی اس سے اس بات پر بھی مہر تصدیق ثبت ہوچکی ہے کہ کشمیریوں کے حقوق کو سلب کرکے انہیں بدترین سرکاری دہشت گردی کا شکار بنایا جارہا ہے۔انجینئر رشید نے کہا کہ شاہ فیصل نے نوکری چھوڑنے کیلئے چاہے جو بھی وجوہات بتائی ہوں لیکن اس سے پھر یہ بات واضح ہوئی ہے کہ نئی دلی کشمیر کو اپنی نوآبادی کے بطور دیکھتی ہے اور یہاں کے افسروں،باالخصوص اکثریتی فرقہ سے تعلق رکھنے والوں،خود سسٹم کے اندر احساس بے گانگی اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا نہ ہوتا تو پھر ایک آئی اے ایس افسر،وہ بھی کہ جنہوں نے پورے ہندوستان میں اپنے وقت پر مسابقتی امتحان میں سب سے پہلی پوزیشن حاصل کرکے شہرت پائی ہو،جو ایک سیاست دان سے زیادہ بطور بیوروکریٹ بہترین خدمت کرسکتے ہوںکبھی بھی نوکری چھوڑنے پر خود کو مجبور نہیں پاتے۔انجینئر رشید نے کہا کہ شاہ فیصل کا یہ کہنا باالکل صحیح ہے کہ کشمیریوں کو قتل کرنے کے علاوہ انکی تذلیل کی جاتی ہے،ان پر تشدد کیا جاتا ہے اور انہیں اپنے بنیادی حقوق تک سے محروم رکھا جارہا ہے۔عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ نے مزید کہا کہ یہ بات اگرچہ خود شاہ فیصؒ تک ہے کہ وہ اپنا مقصد کیسے پاسکتے ہیں یا کشمیریوں کے حقوق کی لڑائی کیسے لڑنا چاہیں گے تاہم ہم خیال لوگوں کو انہیں مخلصانہ حمایت کی پیشکش کرنی چاہیئے۔انجینئر رشید نے تاہم ساتھ ہی شاہ فیصل کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسا کچھ بھی نہیں کرنا چاہیئے کہ جس سے ان سے امید رکھنے والے حلقے مایوس ہوجائیں۔انہوں نے کہا کہ چونکہ شاہ فیصل نے کشمیریوں پر ہونے والے تشدد اور انکے سلب شدہ حقوق کی بات کی ہے انہیں یہ کسی اور کے مقابلے میں اچھے سے معلوم ہونا چاہیئے کہ یہاں کے لوگ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل ،انتظامیہ میں اقربا پروری،رشوت خوری،وی آئی پی کلچر،بد انتظامی اور خاندانی راج کا خاتمہ چاہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ شاہ فیصل کو لوگوں کے جذبات اور انکی بے شمار قربانیوں کو نظر انداز نہ کرتے ہوئے اپنا اگلا قدم اٹھانے سے پہلے یہ ضرور سوچنا چاہیئے کہ کہیں وہ کسی ایسی جماعت میں شامل تو نہیں ہو رہے ہیں کہ جسکا ماضی داغدار ہو اور جس میں شامل ہونے سے خود شاہ فیصل کے ارادوں اور نیت پر شک کیا جائے۔عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ نے شاہ فیصل کو پارٹی میں شامل ہونے کی پیشکش کی اور کہا کہ اگر وہ ایسا نہ کرتے ہوئے اپنی پارٹی بنانا چاہیںیا آزاد امیدوار کے بطور پارلیمانی انتخاب لڑنا چاہیں تو عوامی اتحاد پارٹی کی انہیں ہر طرح کی حمایت حاصل رہے گی۔تاہم انجینئر رشید نے کہا کہ اس سلسلے میں شاہ فیصل کیلئے واحد شرط یہ ہے کہ وہ کشمیریوں کے جذبات و احساسات اور قربانیوں کی کھل کر اور واضح طور پر بات کریںاور ان طاقتوں کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کریں کہ جو کشمیریوں کو انکا حق خود ارادیت دینے میں یقین نہ رکھتے ہوں۔اس موقعہ پر انجینئر رشید نے یہ بات دہراتے ہوئے واضھ کیا کہ عوامی اتحاد پارٹی کسی بھی شخصیت کے ساتھ تعاون کرنے یا ہر اس طاقت کے ساتھ ضم ہونے تک کیلئے تیار ہے کہ جو مخلصانہ طور مسئلہ کشمیر کے تاریخی پس منظڑ میں اس مسئلے کے حل کیلئے جدوجہد کرنے میں یقین رکھتی ہو۔
Comments are closed.