جے کے بینک نے اپنی نوعیت کی پہلی ڈِجیٹل لابی کا افتتاح کیا

اپنے گاہکوں کی عمدہ اور بہتر خدمت ہمارا مشن ہے: پرویز احمد

سرینگر/۸ جنوری: جدید ٹیکنالوجی کی سمت ایک اور پیش رفت اور اپنے ڈجیٹل بینکنگ مشن کو پروان چڑھاتے ہوئے جے کے بینک نے اپنے کارپوریٹ آفس مولانا آزاد روڈ سرینگر میں اپنی نوعیت کی پہلی ڈِجیٹل لابی کا افتتاح کیا۔اس ڈجیٹل لابی کا مقصد کم سے کم انسانی مداخلت کے ہوتے ہوئے بینکنگ پروڈکٹس اور سروسز کو اپنے گاہکوں تک احسن طریقے سے پہنچانا ہے۔ اس ڈجیٹل لابی میں جدید طرز کی مشینیں نصب ہیں جنکے ذریعے تمام بینک کاری سہولیات مہیا رکھی جائیں گی۔
ڈجیٹل لابی کا افتتاح کرتے ہوئے جے کے بینک چیئرمین اور سرپرست اعلیٰ جناب پرویز احمد نے کہا کہ یہ لابی نہ صرف ورلڈ کلاس ڈجیٹل بینکنگ سہولیات بہم رکھے گی بلکہ اس سے دنیائے بینک کاری حقیقتاً ہماری مٹھی میں آجائیگی۔جے کے بینک اپنے گاہکوں کو ورلڈ کلاس بینکنگ فراہم کرانے کا وعدہ بند ہے ا۔ انہوں نے کہا کہ یہ روایتی بینک کاری نظام سے نکل کر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدیدیت کی طرف ایک انقلابی قدم ہے جسکے تحت جے کے بینک دیگر قومی و بین الاقوامی بینکوں کی پہلی صف میں شامل ہورہا ہے۔ جناب پرویز احمد نے کہا کہ ہمارے پاس یہ پلان ہے کہ ہم ریاست میں مختلف جگہوں پرایسے ہی ڈجیٹل مراکز قائم کر نے جا رہے ہیں اور عوام کیلئے ایسی پہلی لابی SSI لال چوک سرینگر میں 15 اپریل 2019 کو لانچ کی جائے گی۔
بینک کی اس پہلی ڈجیٹل لابی میں کیش بھرنے اور نکالنے کیلئے کیش Recycler، چیک جمع کرنے کیلئے Cheque drop machine ، بل پیمنٹ کیلئےPOS ٹرمنل، پاس بُک پرنٹ کرنے کیلئے ایک خود کار مشین، اور دیگر منسلک ڈجیٹل مشینیں قابل ذکر ہیں۔ لابی کے وسط میں ایک روبورٹ بھی لگا ہوا ہے جو ہر آنے والے گاہک کو بینکنگ سے متعلق کسی بھی پوچھے جانے والے سوال کا جواب دیگا۔ ایسے NAO روبورٹ تعلیم، تحقیق اور طب کے میدان بھی استعمال ہورہے ہیں جہاں یہ جانکاری دینے کے علاوہ تفریح کا ایک ذریعہ بھی ہے۔
جدید ٹیکنالوجی اور مشینوں سے لیس اس لابی کی رسم ِافتتاح قومی سطح کی اُس بڑی خبر کے ایک روز بعد انجام دی گئی جس میں مرکزی سرکار کی منسٹری آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے جے کے بینک کوڈِجیٹل لین دین میں ملک بھر میں تیسرے پائدان پر پایا گیا جب بینک نے رواں مالی برس کے پہلے تین سہ ماہی کے دوران یعنی 31 دسمبر 2018 تک ملک بھر میں تین کروڑ اکیس لاکھ کی ڈجیٹل ادئیگی کی ہے۔

Comments are closed.