کہا عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی کی لفظی جنگ جنگجوؤں کو بھاری حمایت حاصل ہونے کا ثبوت
سرینگر 4جنوری: عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید نے جنگجوؤں کے گھروں کے دوروں کو لیکرعمر عبداللہ اور اور محبوبہ مفتی کے بیچ جاری لفظی جنگ اور اب بات پر بحث،کہ اپنے دور اقتدار میں ان دونوں وزرائے اعلیٰ میں سے کس نے زیادہ لوگوں کو مروایا ہے،کو جنگجوؤں کی اخلاقی جیت قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سچائی اور حالات نے ان دونوں کو ان ہی لوگوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنے کو مجبور کردیا ہے کہ جنہیں اپنے اپنے دور اقتدار میں انہوں نے بے دردی سے مروادیا ہے۔آج یہاں سے جاری کردہ ایک بیان میں انجینئر رشید نے کہاکہ چاہے محبوبہ مفتی کا جنگجوؤں کے گھر جاکر مگر مچھ کے آنسو بہانا ہو یا پھر عمر عبداللہ کا ان پر آپریشن آل آوٹ کے پیچھے ہونے کا الزام ایک ایک لفظ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جنگجوؤں کو بھاری عوامی حمایت حاصل ہے اور انہیں دہشت گرد بتانے والے پروپیگنڈہ پر کوئی کان دھرنے تک پر آمادہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بلاشبہ یہ بات عوام کی صوابدید پر ہے کہ وہ عمر عبداللہ یا محبوبہ مفتی کے شاطرانہ الفاظ اور منافقانہ حرکتوں کو سنجیدہ لیتے ہیں یا نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں کے بیچ جاری بحث نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ ان دونوں کا کوئی نظریہ،بیانیہ یا کوئی فکر نہیں ہے بلکہ وہ جنگجوؤں کی تعریف اورانکے خاندانوں پر ہورہے تشدد پر واویلا کرکے اپنی مسخ شدہ شبیہ کو بحال کرنے کی کوشش کررہے ہیں حالانکہ انہیں اس بات پر شرم تک محسوس نہیں ہوتی ہے کہ انہوں نے باری باری کشمیریوں کا بدترین قتل عام کروایا ہے۔انجینئر رشید نے کہاکہ چونکہ ابھی محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ،دونوں،کے ہاتھ خالی ہیں بہتر ہے کہ وہ جنگجوؤں اور انکے خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی کرنے سے گریز کریں یا پھر نئی دلی پرجموں کشمیر میں رائے شماری کا وعدہ پورا کرنے کیلئے دباؤ ڈالیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جب تک نہ محبوبہ مفتی ،عمر عبداللہ یا کوئی اور اٹانومی اور سیلف رول جیسے فرسودہ فارمولاؤں کے ذرئعہ مسئلہ کشمیر کو کمزور کرنے کی کوششوں سے باز نہ آئیں تب تک کشمیریوں کا خون بہتا رہے گا کیونکہ مسئلہ کشمیر کو عوامی جذبات اور خواہشات کے مطابق حل کئے بغیر ساری مزاحمتی قیادت بھی یکجا ہوکر کوشش کرے تو وہ حالات کو نہیں بدل سکتی ہے اور نہ ہی خون خرابا بند کراسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام محبوبہ مفتی یا عمر عبداللہ کے ووٹ بنک کو مظبوط کرنے کیلئے نہیں بلکہ اس وجہ سے مر رہے ہیں کیونکہ نئی دلی انکی آواز کو دبانے کیلئے سفاکیت پر اتری ہوئی ہے۔انجینئر رشید نے نئی دلی پر اس بات کا ادراک کرنے کیلئے زور دیا کہ اگر عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی ووٹ لینے تک کیلئے جنگجوؤں اور انکے خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنے پر مجبور ہیں ،حالانکہ اس ڈرامہ بازی کو یہاں کوئی سنجیدہ نہیں لیتا ہے،تو پھر حکومت ہند کیونکر جنگجو قیادت کو غیر مشروط بات چیت کی دعوت دینے میں کیوں لیت و لعل کر رہی ہے۔انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی پارلیمنٹ جیسا ادارہ تک عام ہندوستانیوں کو کشمیر کے حالات سے متعلق گمراہ کررہا ہے جو کہ شرمناک ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے ممبران کو اصل صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے سچائی سے بھاگنا بند کرنا چاہیئے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے پر آمادہ ہوجانا چاہیئے۔
Comments are closed.