وادی میں اعلیٰ درجے کے گوشت کی قیمت پر غیر معیاری گوشت فراخت کیا جارہا ہے

متعلقہ محکمہ کی غیر سنجیدگی پر عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر، خود غرض عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

سرینگر/27دسمبر/سی این آئی/ وادی میں غیر معیار گوشت فراخت کئے جانے کا انکشاف کرتے ہوئے گراہکوں نے محکمہ فوڈ سیفٹی کے خلاف سخت غم و غصے کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ محکمہ برائے نام ہے اور زمینی سطح پر اس کے کام کا کوئی وجود ہی نہیں ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی میں قصابوں کی دکانوں پر غیر معیاری گوشت اعلیٰ داموں پر فروخت کیا جارہا ہے ۔ اس ضمن میں وادی کے مختلف علاقوں سے گراہکوں نے شکایت کی ہے ایک نمبر گوشت کے نام پر انہیں دوسرے درجے کا گوشت دیا جاتا ہے ۔ جو سراسر ناانصافی ہے ۔ گراہکوں کے مطابق متعلقہ محکمہ یعنی فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کا کام اگرچہ بازاروں میں کھانے پینے کی اشیاء کے معیار کو پرخنا ہے تاہم اس ادارے کا نام صرف سرکاری کاغذوں پر ہی ہے تاکہ سرکاری خزانے سے محکمہ کے ملازمین کے حق میں تنخواہ نکالی جاسکے لیکن زمینی سطح پر اس ادارے کا کام کہیں پر دکھائی نہیں دیتا جس کے نتیجے میں خود غرض اور لالچی تاجر سیدھے سادھے عوام کو دو دو ہاتھوں لوٹ رہے ہیں ۔ اس دوران معلوم ہوا ہے کہ دلی کی منڈیوں میںاعلیٰ معیار اور ادنا معیار کے بھیڑبکریوں کی قیمتیںالگ الگ ہوتے ہیں اور اعلیٰ معیار کے بھیڑوں کے بدلے دوسرے درجے کے بھیڑ وادی سپلائی کئے جارہے ہیں جو کوٹھیداروں کیلئے فائدہ مند ہوتا ہے تاہم وادی میں اس ادنا معیار کے گوشت کو بھی اعلیٰ درجے کے گوشت کی قیمت پر ہی فروخت کیا جارہا ہے ۔ اس حوالے سے عوامی حلقوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان خود غرض عناصر کے خلاف فوری طور پر کارروائی عمل میں لانی چاہئے ۔

Comments are closed.