سید بشارت بخاری اور پیر محمد حسین کی پارٹی میں خیرقدم کیا
سرینگر / 19دسمبر : نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ گورنر راج آمرانہ رول کے مترادف ہوتا ہے اور عوامی منتخب حکومت کا کوئی بھی متبادل نہیں ہوسکتا ، ہماری جماعت ریاست میں جلد سے جلد اسمبلی انتخابات پر زور دیتی آئی ہے کیونکہ ایک عوامی حکومت ہی عوامی مسائل صحیح طریقے سے حل کرسکتی ہے اور ریاست کو درپیش مختلف قسم کے چیلنجوں کا مقابلہ عوامی اُمنگوں کے عین مطابق کرسکتی ہے۔ سی این ایس کے مطابق انہوں نے آج اپنی رہائش گاہ پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس تقریب کا اہتمام پی ڈی پی کے دو سینئر لیڈران سید بشارت بخاری(سابق وزیر) اور پیر محمد حسین (سابق وزیر و چیئرمین وقف بورڈ) کا نیشنل کانفرنس میں شمولیت اختیار کرنے کیلئے کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے دونوں لیڈران کا پارٹی میں خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اُمید ہے کہ یہ دونوں لیڈران نیشنل کانفرنس کی اُس جدوجہد میں عملی طور پر شامل حال ہونگے جس کا مقصد ریاست کے لوگوں کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے پُرآشوب دور اور افراتفری سے نجات دلانا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرکے اُن عناصر کی سازشوں کا منہ توڑ جواب دینا ہے جو جموں وکشمیر کے مفادات اور خصوصی پوزیشن کیخلاف سازشوں کے جال بُن رہے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ جو عناصر ریاست کے لوگوں میں تفرقہ ڈالنے کی مذموم کوششیں کررہے ہیں وہ پیسوں کا استعمال کرکے ہمیں گمراہ کرسکتے ہیں اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہر حال میں آپس میں اتحاد و اتفاق بنائے رکھیں اور کسی بھی سازش کو کامیاب نہ ہونے دیں۔ فرن پر پابندی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ یہ حکم نامہ تہذیبی جارحیت کے مترادف ہے جسے فوری طور پر کالعدم قرار دیا جانا چاہئے۔ پلوامہ میں شہری ہلاکتوں پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہا کہ گذشتہ 4 سال سے عام شہریوں کی ہلاکتیں روز کا معمول بن کر رہ گئی ہے، یہ سلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہئے۔ فورسز کو براہ راست گولیاں چلانے کیلئے جوابدہ بنانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاجی مظاہروں کا توڑ کرنے کیلئے غیر مہلک ہتھیار کئے جاسکتے ہیں لیکن ایسا بالکل نہیں کیا جارہا ہے۔ لوگوں پر براہ راست گولیاں اور پیلٹ چلائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات سے حالات مزید خراب ہوتے ہیں اور ہلاکتوں کا دائرہ وسیع تر ہوتا جارہا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ افہام و تفہیم اور مصلحت کا راستہ اختیار کیا جائے۔ نائب صدر عمر عبداللہ نے بھی پارٹی میں شامل ہونے والے دونوں لیڈران کا نیشنل کانفرنس میں خیر مقدم کیا اور اُمید ظاہر کی کہ یہ دونوں لیڈران نیشنل کانفرنس کی مضبوطی کیساتھ ساتھ عوامی خدمت میں پیش پیش رہیں گے۔
Comments are closed.