سیاستدانوں کا خود پر ہونے والی تنقید کے نتیجے میں نفرت انگیز بیانات کا پرچار
سرینگر / 19دسمبر /سی این ایس / سال2018 کے دوران دنیا بھر میں وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سر کردہ صحا فی شجاعت بخاری سمیت80 صحافی قتل کیے گئے جبکہ 348 کو جیل کی ہوا کھانی پڑی اور 60 سے زائد کو یرغمال بنا کر رکھا گیا۔میڈیا واچ ڈاگ کی اس نئی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ سیاستدانوں نے خود پر ہونے والی تنقید کے نتیجے میں نفرت انگیز بیانات کا پرچار کیا جس کے نتیجے میں سال2018 میں قتل کیے گئے صحافیوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سی این ایس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق میڈیا واچ ڈاگ ’’رپورٹز ود اؤٹ بارڈرز‘‘ کے اعدادوشمار کے مطابق رواں سال سعودی صحافی جمال خاشقجی سمیت80صحافیوں کو قتل کیا گیا اور 348 کو جیل کی ہوا کھانی پڑی جبکہ 60 سے زائد کو یرغمال بنا کر رکھا گیا۔ادارے کے سربراہ کرسٹوف ڈیلوئر نے کہا کہ صحافیوں کے خلاف تشدد اس سطح تک پہنچ گیا ہے جو آج تک کبھی نہیں دیکھا گیا اور صورتحال بہت تشویشناک ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سیاستدانوں اور بااثر کاروباری شخصیات کا بھی بڑا عمل دخل رہا جنہوں نے خود پر ہونے والی تنقید کے نتیجے میں ان صحافیوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات کا پرچار کیا اور نتیجتاً صحافیوں کے قتل کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے اپنی رپورٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ذکر نہیں کیا جو اکثر صحافیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں اور کچھ صحافیوں کو ’ملک کا دشمن‘ بھی قرار دے چکے ہیں۔ڈیلوئر نے کہا کہ نفرت انگیز بیانات کے پرچار نے تشدد کو قانونی شکل دی جس سے صحافت اور جمہوریت کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔2018 میں امریکا بھی صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملکوں کی فہرست کا حصہ بن گیا اور اس فہرست میں اس کا پانچواں نمبر ہے جہاں جون میں اخبار ’کیپیٹل گزیٹ‘ کے دفتر میں فائرنگ کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک ملک افغانستان رہا جہاں فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے شاہ مرئی سمیت پندرہ صحافی لقمہ اجل بن گئے جبکہ گیارہ اور نو ہلاکتوں کے ساتھ شام اور میکسکو بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔خیال رہے کہ اس سا ل سر ینگر کی پریس کالونی میں نامعلوم اسلحہ برداروں کے حملے میں وادی کشمیر کے سردکرہ صحا فی اور ادیب ڈا کٹر شجاعت بخا ری اپنے دو محافظین سمیت جا بحق ہوگئے ہیں۔میڈیا واچ ڈاگ کے سربراہ کے مطابق صحافیوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات اور مواد کو سوشل میڈیا نے بھی بڑھاوا دیا جو اس سلسلے میں نقصان کا بہت حد تک ذمے دار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تین سال تک صحافیوں کی اموات کی تعداد میں کمی دیکھی گئی جس کے بعد اس سال پیشہ ورانہ صحافیوں کی اموات میں پندرہ فیصد تک اضافہ دیکھا گیا اور اس سال قتل، جیل، قیدی بنانے کے ساتھ ساتھ جبری گمشدگی کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ڈیلوئر کے مطابق صحافیوں پر 2018 قبل آج تک اس حد تک تشدد اور بدترین رویے کی مثال نہیں ملتی۔۔رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ہلاک ہونے والے صحافیوں میں سے 50 فیصد سے زائد کو جان بوجھ کر قتل کی گیا جبکہ31 صحافی مختلف پرتشدد واقعات کے دوران پیشہ ورانہ ذمے داریاں انجام دیتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ غیرپیشہ ورانہ یا سٹیزن جرننلسٹ اب جنگ زدہ علاقوں یا جابرانہ حکومتوں کے خلاف خبروں کے حصول میں اہم کردار کر رہے ہیں کیونکہ ایسی جگہوں پر پیشہ ورانہ صحافیوں کے لیے کام کرنا بہت دشوار ہو گیا ہے۔صحافیوں کو جیل بھیجنے میں چین اب بھی سرفہرست ہے جہاں60 صحافیوں کو جیل کی ہوا کھانی پڑی جن میں سے 46 بلاگرز ہیں جنہیں صرف سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر پوسٹ لگانے کے جرم میں جیل میں ڈال دیا گیا اور ان سے غیرانسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔رپورٹ میں ترک حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس نے محض ایک لفظ یا فون کال کی بنیاد پر صحافی کفکیسک کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کردیا تھا۔ترکی میں33 صحافی جیل میں قید ہیں جبکہ 60سال سے زائد عمر 3 صحافیوں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے جن کی ضمانت پر رہائی کا کوئی امکان نہیں۔فہرست میں مصر اور ایران بھی شامل ہیں جہاں بالترتیب38 اور28 رپورٹرز و بلاگرز کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا۔
Comments are closed.