ویڈیو: فوج کو کشمیری نہیں بلکہ نئی دلی سیاست میں گھسیٹ رہی ہے: انجینئر رشید
ایڈوزئزر وجے کمار کو حد میں رہنے کی صلاح،کہا کشمیر میں کوئی ویراپن نہیں ہے
سرینگر / 18دسمبر : عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشیدنے کشمیر میں فورسز کے ہاتھوں عام لوگوں کے مارے جانے سے متعلق عالمی برادری کو دھوکہ دینے کی نئی دلی کی کوششوں کو بے سود بتاتے ہوئے نئی دلی کو یہ نہ بھولنے کا مشورہ دیا ہے کہ اطلاعاتی تیکنالوجی کے موجودہ دور میں اسکے لئے کشمیریوں پر اپنی زیادتیوں کو چھپانا ممکن نہیں ہو سکتا ہے۔ سی این ایس کے مطابق عدالتی حراست سے رہا کئے جانے کے بعد سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر رشید نے کئی اہم مسئلوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح فوجی چیف جنرل بپن راوت کشمیریوں کو دھمکا رہے ہیں اور فورسز کی بربریت کے خلاف کچھ بھی کہنے کی جرأت کرنے والوں کیلئے برا بھلا کہتے ہیں اس سے انکا قد بہت چھوٹا ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بحیثیت ادارہ کے فوج کیلئے اچھی ہوگی کہ وہ کشمیریوں کے قتل ہا کیلئے بہانے تلاش کرنے کی بجائے شرمندگی کا اظہار کرے۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں سے فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹنے کیلئے کہتے ہوئے جنرل راوت یہ ہمالیائی حقیقت بھول رہے ہیں کہ یہ کشمیری نہیں بلکہ نئی دلی ہے کہ جو ستر سال سے لٹکتے آرہے کشمیر کے خالص سیاسی مسئلے کو فوجی طاقت کے بل پر حل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے فوج کو سیاست میں گھسیٹ رہی ہے۔انجینئر رشید نے کہا کہ جہاں فوج کا کام سرحدوں پر غیر ملکی جارحیت کو روکنا ہوتا ہے وہیں نوآبادیاتی طاقتیں فوج کو اندرونی بغاوتوں کے خلاف اور لوگوں کی جائز آوازوں کو دبانے کیلئے استعمال کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنرل بپن راوت کو ایمانداری اور ہمت سے کام لیتے ہوئے نئی دلی میں سیاسی قیادت کو بتانا چاہیئے کہ کشمیر کے طول وارض میں نہتے شہریوں کے ساتھ راست محاذ آرائی میں ملوث ہوکر فوج اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتیں کھوتی جارہی ہے۔پلوامہ میں حالیہ قتل عام کے خلاف مختلف پارٹیوں کی جانب سے بادام باغ میں فوجی ہیڈکوارٹر کے باہر دھرنا کی کال کو برمحل بتاتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ یہ ایک باجواز اور مہذب طریقۂ احتجاج تھا۔انجینئر رشید نے کہا کہ اگر کشمیری عوام اس طرح کے احتجاج بھی کریں تو پھر کیا جنرل راوت انسے فوج پر پھول برسانے کی توقع کرتے ہیں؟۔انجینئر رشید نے کہا کہ یہ بات انتہائی حیران کن ہے کہ ایک طرف جنرل راوت سے لیکر وزیر داخلہ تک اور گورنر ستپال ملک سے لیکر انکے مشیر کے وجے کمار تک سبھی لوگ فورج کے ہاتھوں مارے جانے والوں کو سنگباز اور ہر کشمیری کو جنگجوؤں کا اعانت کار بتاتے ہوئے قتل عام کو جوازیت بخشنے کی کوشش کررہے ہیں تو دوسری جانب یہی لوگ اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اسکی تحقیقات کی باتیں کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی جتاتے ہیں جو کہ اپنے آپ میں ایک بڑا مذاق ہے۔انہوں نے کہا کہ جھوٹی ہمدردی اور تحقیقاتوں کے اعلانات اپنے آپ میں ایک قسم کا اعتراف گناہ ہے۔عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ نے گورنر انتظامیہ میں امن و قانون کے انچارج مشیر کے- وجے کمارکو اپنی حدود پھلانگنے کی کوشش نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے انہیں اس بات کا ادراک کرنے کیلئے کہا کہ مسئلہ کشمیر امن و قانون کا مسئلہ نہیں ہے۔انجینئر رشید نے کہا’’مسٹر کے-وجے کمار کو یہ بات سمجھ لینی چاہیئے کہ وہ کشمیر میں سندل سمگلروں سے نبردآزما نہیں ہیں اور نہ ہی یہاں کوئی ویراپن ہے جسے ختم کرنے کیلئے مسٹر کمار اوچھے ذرائع استعمال کرینگے۔کشمیری عوام مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کیلئے لڑ رہے ہیں اور وہ کسی اور سے زیادہ امن چاہنے والے لوگ ہیں‘‘۔ایمنسٹی انٹرنیشنل اور او آئی سی کی جانب سے کشمیر کے حالات پر فکر مندی کا اظہار کرنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ عالمی برادری کو انسانی زاوئے سے کشمیریوں کے حالات کا جائزہ لیکر زبانی فکر مندی سے آگے بڑھکر خونریزی کو بند کرانے میں اپنا کردار نبھانا چاہیئے۔انہوں نے دہراتے ہوئے کہا کہ گورنر اور انکی مشاورتی کونسل کوآمرانہ رویہ اپنانے کی بجائے پلوامہ کے قتل عام کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرنی چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ حالانکہ کیورٹی ایجنسیاں سیول انتظامیہ کی ہدایت کے تحت کام کرنے کی پابند ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے یہاں کی صوبائی اور ضلع انتظامیہ انہی ایجنسیوں کی ڈھنڈورچی بنی ہوئی ہے اور یہ بات بار بار ثابت ہورہی ہے کہ ضلع کمشنران اور دیگر افسران ربڑ کی مہروں سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہیں۔مزاحمتی قیادت کی جانب سے آئے دنوں احتجاجی ہڑتال کی کال دئے جانے کا دفاع کرتے ہوئے انجینئر رشید نے اس بات کیلئے مزاحمتی قیادت کی تنقید کرنے والوں کو آڑھے ہاتھوں لیا۔انہوں نے کہا’’جن لوگوں کا، مزاحمتی قیادت و دیگراں کو سڑکوں پر آنے اور ہڑتال کی کال دینے والوں کی تنقید کرنے کے سوا ،کوئی کام نہیں ہے انہیں کو متبادل لیکر سامنے آنا چاہیئے اور خود کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی اس پر عمل کرانا چاہیئے۔انجینئر رشید نے عوام سے متحد ہونے اور سبھی سیاسی قوتوں سے کم سے کم مشترکہ پروگرام پر یکجا ہونے کی اپیل کی تاکہ کشمیریوں کا قتلعام بند کرایا جاسکے۔
Comments are closed.