وادی میں جاری قتل عام اور جبرو تشدد ، پاکستان،برطانیہ اور یوروپ وغیرہ میں احتجاجی مظاہروں کا انعقاد

سرینگر / 18دسمبر /سی این ایس / اقوام متحدہ کو کشمیر میں ہونے والے خونین واقعات کا سنجیدہ نوٹس لینا چاہئے اور جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنی حالیہ رپورٹ کے بعد کچھ اور مضبوط اقدامات اٹھانے چاہیں تاکہ معصوم کشمیریوں کی زندگیوں کو بھارت کے ظلم و جبر سے بچانے کی سعی کی جاسکے ۔معصوم کشمیریوں کو قتل کرکے ہندوستانی ریاست کو سوائے رسوائی کچھ حاصل نہیں ہوگا۔شہیدوں کا خون کبھی ضائع نہیں ہوگا۔سی این ایس کے مطابق ان باتوں کا اظہار لبریشن فرنٹ کے قائدین نے پاکستانی زیر انتظام کشمیر، پاکستان اوردنیا کے دوسرے علاقوں میں منعقدہ احتجاجی ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جموں کشمیر میں جاری بھارتی دہشت گردی اور قتل عام کے خلاف لبریشن فرنٹ کے اہتمام سے منعقد ہونے والے ان احتجاجی مظاہروں کی قیادت فرنٹ کے مختلف قائدین نے کی۔ میرپور آزاد کشمیر میں ریلی کی قیادت خواجہ پرویز، ساجد صدیقی، آفتاب احمد اور سعد انصاری نے کی جبکہ کوٹلی میں راجہ حق نواز اور چوہدری یوسف، باغ میں جہانگیرمرزا،کوٹلی سٹی میں دلشاد قریشی، یوسف چوہدری اور ملک اسلم، کوٹلی یونیورسٹی میں وقار ملک، راولاکوٹ میں ایڈوکیٹ ایس ایم ابراہیم اور سردار ابراہیم ، تھروڑ راولا کوٹ میں شیخ رمضان، مینڈھولی میں طاہر بشیر اور سردار فیاض، تتہ پانی میں ایاز کریم اور مبشر احمد،نکیال میں محمدنعمان، ہجیرہ میں نزاکت کشمیری، ذوالفقار احمد اور فیضان احمد، سرسواہ میں اشفاق کشمیری و شوکت کشمیری ،تڑاڈکھل میں چوہدری شکیل اور قاری نصیر،کورٹ جمیل بھمبر میں توصیف جرال،بالوچ سدھونتی میں سردار فہیم اور سردار نوید،رنگلا باغ میں راجہ تسنیم نے احتجاجی ریلیوں کی قیادت کی۔ اسی قسم کے احتجاجی مظاہرے چرکوئی،کھوئی رٹہ وغیرہ کے مقامات پر بھی منعقد ہوئے۔ یہ احتجاجی مظاہرے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ اور اسٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ کے اہتمام سے منعقد ہوئے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ لبریشن فرنٹ برطانیہ،اور یورپی یونین زون بھی 20 دسمبر 2018 ؁ء کو بھارتی سفارت خانوں اور ہائی کمیشنوں کے سامنے اسی طرح کے احتجاج منعقد کریں گے جبکہ برطانیہ، فرانس، بیلجیم، فن لینڈ اور دیگر اہم شہروں میں بھی اسی قسم کے احتجاج منعقد کئے جارہے ہیں۔ علاوہ اَزیں پاکستان میں بھی اسی طرح کی احتجاج اِسلام آباد، کراچی اور لاہو ر وغیرہ میں منعقد ہوں گے۔

Comments are closed.