پارم پورہ سے لاچوک پہنچنے میں ایک گھنٹے کا وقت لگتا ہے، مسافروں،راہگیروں اورطلبہ و بیماروں کیلئے سُوہان روح

سرینگر / 18دسمبر : نیو بس اسٹینڈپارم پورہ سے لاچوک تک بے ہنگم ٹریفک جام عام مسافروں،راہگیروں،ملازمین ومزدوروں اورطلبہ و بیماروں کیلئے سُوہان روح بنا ہواہے اس معاملہ کاتشو یشناک پہلو یہ ہے کہ پارم پورہ سے لاچوک تک مسافروں کو کم سے کم ایک گھنٹے کا وقت لگتا ہے جو کسی المیہ سے کم نہیں ہے۔ سی این ایس کے مطابق شہر سرینگرمیں ٹریفک نظام میں موجود خامیوں اورقوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں اورمسافرومال برداراورنجی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کی من مانیوں پرقابوپانے کیلئے متعلقہ حکام کی طرف سے کوئی کارگراقدامات روبہ عمل نہیں لائے جارہے ہیں جبکہ سڑکوں کی تنگدستی اورزبوں حالی دورکرنے کیلئے بھی عمل اقدامات کافقدان پایاجاتاہے ۔ٹریفک نظام میں تمام ترنقائص کے باوجود ٹریفک نظام میں سدھارلانے کیلئے کوئی فوری نوعیت کے یادُوررس اقدامات نہیں اُٹھائے جارہے ہیں ۔ سی این ایس سٹی رپورٹر کے مطابق پارم پورہ سے لاچوک تک گاڑیوں میں سفرکرنے والے مسافروں کوآواجاہی میں سخت مشکلات کاسامناکرناپڑرہا ہے کیونکہ کچھ میٹرچلنے کے بعد ہی گاڑیاں ٹریفک جام میں پھنس جاتی ہیں ۔ اس روٹ سے سفر کرنے والے لوگوں کو قمرواری اور پی سی آر کے باہر بے ہنگم ٹریفک جام کی وجہ سے سخت مشکلات پیش آ رہی ہیں ۔ان گاڑیوں میں سفر کرنے والے مختلف حلقوں اورطبقوں سے تعلق رکھنے والے افرادنے بتایاکہ ٹریفک کی بدحالی نے اُنکی زندگیوں اورروزمرہ کی سرگرمیوں کوباعث عذاب بناکے رکھدیا ہے ۔سیول لائنزاورشہرکے کئی علاقوں اوربازاروں میں بعض اوقات ٹریفک جام کی وجہ سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ ان اہم بازاروں میں سڑک کنارے اورفٹ پاتھ کوڑے کرکٹ سے بھرے پڑے رہنے کی وجہ سے گاڑیوں کی آواجاہی میں بارباررکاؤٹ پیداہورہی ہے۔سی این ایس کے مطابق سرینگرشہر کے ساتھ ساتھ وادی کے تمام قصبہ جات میں بھی ٹریفک جام کے نتیجے میں معمول کی عوامی اور تجارتی سرگرمیاں بری طرح سے متاثر ہو رہی ہیں ۔شمالی قصبہ بارہمولہ ، پٹن ، سوپور ، ہندوارہ ، کپوارہ ، بانڈی پورہ ، ماگام ، بڈگام اور جنوبی کشمیر کے قصبہ جات میں بھی روزانہ ہونے والے ٹریفک جام کی وجہ سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

Comments are closed.