جا بحقین کی فاتحہ خوانی کے موقعہ پر تعزیتی مجالس۔ لال چوک اور جامع مسجد میں غائبانہ نماز جنازہ
سرینگر / 18دسمبر : پلوامہ ہلاکتوں پر تین روزہ ہڑتا ل اور بند شوں کے بعد سرینگر اور وادی کے دیگر علاقوں میں کارو باری اور تجارتی سرگر میاں بحال ہوئیں تاہم پلوامہ میں مار ے گئے سات شہر یوں اور تین جنگجو ؤں کی فاتحہ خوانی کے سلسلے میں جنو بی کشمیر کے تمام اضلاع میں بغیر کسی کال کے چو تھویں روز بھی ہڑتا ل جاری رہی جبکہ پلوامہ قصبہ میں سخت بندشوں کے بیچ جا بحقین کے گھروں میں لوگ تعزیتی پرسی کیلئے آ تے رہے۔ اسکولوں اور کالیجوں میں ممکنہ احتجاجی لہر کو رو کنے کیلئے وادی میں تقریباً تمام تعلیمی ادارے انتظامیہ کے احکامات پر بند رہے۔ اس دوران پلوامہ کے معصوم شہر یوں کے حق میں لال چوک اور جامع مسجدمیں نماز جنازہ غائبانہ کا اہتمام کیا گیا۔ سی این ایس کے مطابق گذشتہ سنیچر وار کو جنوبی ضلع پلوامہ کے کھارہ پورہ، سرنو نامی علاقے میں فورسز کارروائی میں سات شہری اور تین جاں بحق ہوگئے تھے۔ ہلاکتوں کے فوراً بعد علیحدگی پسندوں کے وفاق، مشترکہ مزاحمتی قیادت نے تین روزہ ماتمی ہڑتال کی کال دی تھی جسکے دوران سرینگر کے بیشتر علاقوں میں پابندیاں عاید رہیں جبکہ پوری وادی میں مکمل ہڑتا ل کی گئی۔منگل کو احتجاجی ہڑتال ختم ہونے کے بعد کاروباری ،تجارتی اور ٹرانسپورٹ سرگرمیاں بحال ہوئیں سرینگر میں صبح سے ہی دوکاندار کام میں مصروف نظر آئے اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی چلنے لگا۔سرینگر بڈگام اور گاندربل اور شمالی کشمیر کے تین اضلاع بارہمولہ ، بانڈی پورہ اور کپواڑہ میں منگل کو تین روز بعد معمولات زندگی بحال ہوگئے۔ سرینگرمیں منگل کو تقریباً تمام تعلیمی ادارے انتظامیہ کے احکامات پر بند رہے۔جنوبی کشمیر کو چھوڑ کر وادی کے دیگر علاقوں میں روزمرہ کی کاروباری سرگرمیاں بحال ہوئی ہیں۔ادھر جنوبی قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں بغیر کسی کا ل کے ہڑتال اور بعض علاقوں مین بندشوں کی وجہ سے کاروباری اور دیگر سرگرمیاں چوتھویں روز بھی مفلوج رہیں جبکہ انٹر نیٹ سروس مسلسل مسلسل ٹھپ تھی ۔ پلوامہ میں سخت ترین بندشوں کے بیچ ماتم کا ماحول رہا۔ مرنے والوں کے علاقوں میں کا لیاں جھنڈ یاں اویزاں تھیں ۔ مرنے والے افراد کی اجتماعی فاتحہ خوانی کے سلسلے میں ان کے گھروں اور مزاروں پر تقاریب کا اہتمام کیا گیا اور لوگ دن بھر تعزیت کیلئے آ تے رہے جبکہ جگہ جگہ پر مشروبات کا ا نتظام رکھا گیا تھا ۔قصبہ کے علاوہ کریم آباد،کاکہ پورہ، سانبورہ، نیوہ، پاہو، پنگلنہ، قوئل، راجپورہ، مورن ،لاجورہ، پاریگام، وانپورہ، خندہ میں ہر طرف اداسی چھائی رہی۔ شوپیان میں دکانیں اور کاروباری ادرے بند رہے جبکہ سڑ کوں پرو کا عالم دیکھنے کو ملا۔ کولگام کے فرصل، یاری پورہ، کھڈونی ، ریڈونی، کیموہ، بوگام، منزگام، دمحال ہانجی پورہ، نور آباد، وٹو ناسور، دیوسر، وغیرہ میں ہمہ گیر ہڑتال کی وجہ سے زندگی مفلوج رہی۔ اننت ناگ، بجبہاڑہ،آرونی،سنگم، کھنہ بل،دیالگام،مٹن،سیر ہمدان، ڈورہ سری گفوارہ سمیت دیگر علاقوں میں بھی ہڑتال دیکھنے کو ملی۔اس دوران امکانی حتجاج کے پیش نظر سرینگر، گاندربل ، بانڈی پورہ اور پلوامہ میں قائم تمام کالجوں کے اندر درس و تدریسی کام کاج معطل رکھا گیا تھا۔ادھرپلوامہ کے معصوم شہداء کے حق میں آج مشترکہ مزاحمتی قیادت کے پروگرام پر آج لال چوک سری نگر میں نماز جنازہ غائبانہ کا اہتمام کیا گیا جس میں لبریشن فرنٹ کے قائدین ، اراکین سمیت لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نماز جنازہ کی پیشوائی مولانا حافظ آفتاب صاحب نے کی جبکہ اس میں فرنٹ قائدین غلام رسول ڈار ایدھی،شیخ عبدالرشید، میر محمد زمان،محمد صدیق شاہ ،پروفیسر جاوید ، مزاحمتی لیڈران شبیر احمد ڈار و مختار احمد صوفی اور ٹریڈ یونین لیڈر سجاد گل وغیرہ نے بھی شرکت کی۔ نماز جنازہ میں شامل لوگوں نے پلوامہ کے معصوم شہداء کو خراج عقیدت اَدا کرتے ہوئے اُن کے غم زدہ لواحقین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ادھراس دوران مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے دیئے گئے پروگرام کی پیروی میں مرکزی جامع مسجد سرینگر اور وادی کے مختلف علاقوں میں نماز ظہر کے بعد پلوامہ میں گزشتہ دنوں جا بحق کئے گئے تین عسکریت پسندوں اور سات نہتے شہریوں کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔مرکزی جامع مسجد سرینگر میں حریت رہنما مشتاق احمد صوفی کی قیادت میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں متعدد حریت کارکنوں اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
Comments are closed.