"سرینگر؍15 دسمبر : کانگریس کے سینئرلیڈر اور سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز کا کہنا ہے کہ میں آج پلوامہ میں آرمی اور دوسری فورسز کے ہاتھوں 7 سے زیادہ عام شہریوں کی ہلاکت کی پر زور مذمت کرتا ہوں اور اپنے گہرے صدمے کا اظہار کرتا ہوں۔ میں مرکزی سرکار کو متنبہ کرتا آیا ہوں کہ کشمیر میں فورسز کے ہاتھوں ہلاکتوں سے اُس کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ذلالت ہوتی رہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ مرکزی سرکار کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ آئے دن کشمیر میں فورسز کے ہاتھوں جتنے ملی ٹنٹ تصادم کے ذریعے مارے جا رہے ہیں اس کے دوگنا تعداد میں دوسرے دن جنگجونوجوان نمودار ہوتے ہیں۔ مودی حکومت کو کشمیر میں واضح طور دیکھنا چاہئے کہ کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کا سب سے آسان اورقابل عمل طریقہ بات چیت ہے۔ میں مشترکہ مزاحمتی قیادت کو آج کے کشمیر کی نمائندہ جماعت مانتا ہوں کیونکہ وہی قیادت عرصے سے کشمیر یوں کے غم و غصے کی ترجمانی کرتی آئی ہے ۔مرکز کو چاہئے کہ وہ طاقت کا استعمال کرنے کے بجائے براہ راست اسی قیادت کے ساتھ بات چیت شروع کرے تاکہ کشمیر کے مسئلے کا قابل عمل حل پیدا ہو سکے۔ میری رائے میں مشترکہ مزاحمتی قیادت مرکزی حکومت کو ایک منفرد موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ وقت ضائع کئے بغیر اس قیادت کے ساتھ مذاکرات شروع کرے۔ جہاں تک میں جانتا ہوں ،کئی سینئر فوجی جنرلوں نے لگاتار مرکزی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کشمیر میں ایک بامقصد سیاسی بات چیت کا آغاز کرے اور مسئلے کا حل ڈھونڈے۔ وقت آگیا ہے کہ مرکزی سرکار کشمیر کی تشویش ناک صورتحال کا بغور جائزہ لے اور ریاست میں جلد سے جلد بات چیت شروع کرے۔‘‘
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.