ویڈیو: زینہ پورہ شوپیان میں پولیس پوسٹ پر دن دھاڑے جنگجوئوں کا حملہ ، 4پولیس اہلکار ہلاک
مسلح جنگجوئوں چار اہلکاروں کی سروس رائفلیں بھی اڑا کرفرار ، حملے کی ذمہ داری جیش محمد نے قبول کی
سرینگر /11دسمبر /سی این آئی/ پہاڑی ضلع شوپیان کے زینہ پورہ علاقے میں منگل کو اس وقت سنسنی پھیل گئی جب جنگجوئوں نے دن دھاڑے اقلیتی طبقے کی حفاظت پر معمور پولیس پوسٹ کو نشانہ بنا کر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 4پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ مسلح جنگجو چار پولیس اہلکاروں کی سروس رائفلیں لیکر فرار ہوگئے ۔ ایس ایس پی شوپیان نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملوث جنگجو ئوں کی تلاش بڑے پیمانے پر شروع کر دی گئی ہے ۔ادھرعسکری تنظیم جیش محمد نے حملہ کی ذمہ دار ی قبول کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دستوں کے شوپیان میں پولیس پارٹی پر حملہ کیا اور چارسروس رائفلیں بھی اڑا لی ۔ سی این آئی کو پولیس ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ شوپیان کے زینہ پورہ علاقے میں منگل کو اس وقت دن دھاڑے گولیوں کی گن گرج سنائی دی جب مسلح جنگجوئوں نے علاقے میں اقلیتی طبقے کی حفاظت پر معمور پولیس پوسٹ کو نشانہ بنا کر اندھا دھند گولیاں چلائی ۔ذرائع کے مطابق پولیس پوسٹ میں تعینات اہلکار اس وقت سہم کر رہ گئے جب وہاں مسلح جنگجو ئوں نمودار ہوئے جنہوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کی ۔ ذرائع کے مطابق گولیوں کی آواز سنتے ہی علاقے میں خوف و دہشت کی لہر پھیل گئی ، ذرائع سے بتایا کہ گولیاں چلنے کے ساتھ ہی فورسز کی اضافی نفری جائے واردات پر پہنچ گئی جنہوں نے چار پولیس اہلکاروںکو خون میں لت پت پایا جس کے بعد اسکو شدید زخمی حالت میں سرینگر کے فوجی اسپتال علاج و معالجہ کیلئے منتقل کیا گیا ۔جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے ۔ حملے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی شناخت کانسٹبل کانسٹبل انیس احمد ساکنہ کولگام ، سلیکشن گریڈکانسٹبل عبد المجید ساکنہ گاندربل ، کانسٹبل معراج الدین ساکنہ حاجن بانڈی پورہ اور حمید اللہ ساکنہ اننت ناگ کے بطور ہوئی ہے ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ جنگجوئو ں پولیس اہلکار وںکی سروس رائفل اڑا کر فرار ہو گئے ۔معلوم ہوا ہے کہ واقعہ کے فورا بعد پولیس و فورسز نے پورے علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشی کارروائی شروع کی ہے ۔ ادھر ایس ایس شوپیان نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس ضمن میں کیس درج کر لیا گیا ہے اور ملوث جنگجوئوں کیی بڑے پیمانے پر تلاش شروع کر دی گئی ہے ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ جو نہی دنوں پولیس اہلکاروں کی نعش آبائی علاقوں میں پہنچائی گئی تو وہاں قیامت صغریٰ کے مناظر دیکھنے کو ملیں جبکہ ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں تمام پولیس اہلکاروں کو آبائی علاقوں میں سپرد خاک کیا گیا ۔اسی دوران عسکری تنظیم جیش محمد نے شوپیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اسکارڈ نے مشترکہ طور حملہ انجام دیا جس میں چار پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ چارسروس رائفل بھی انہوں نے اڑا لی ۔
Comments are closed.