خصوصی ویڈیو رپورٹ: انسانی حقوق کا عالمی دن:آ رپار احتجاجی ریلیوں،مشعل بردار جلوسوں، اور سمیناروں کا اہتمام 

 

سرینگر / 10دسمبر : انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے منقسم ریاست کے آ رپار احتجاجی ریلیوں،مشعل بردار جلوسوں، دھرنوں، اور سمیناروں کے ذریعے ریاست میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا جس دوران عالمی برادری سے اپیل کی گئی کہ وہ ریاست میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کے سلسلے کو روکنے کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔سی این ایس کو موصولہ بیانات میں انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کشمیر میں جاری انسانیت سوز مظالم کیخلاف انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس جموں کشمیر نے ریاستی دارالحکومت میں شدید بارش کے باوجود احتجاجی مارچ کیا، مارچ میں سینکڑوں طلباء و طالبات سمیت سیاسی و سماجی ، سول سوسائٹی اور پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ریلی کا انعقاد امبور کے مقام سے کیا گیا جو بلدیہ چونگی کے قریب اختتام پذیر ہوا۔ شدید بارش کے باوجود طلباء وطالبات سمیت شرکاء نے بھارت کیخلاف نعرے لگائے، طلباء و طالبات نے ہاتھوں میں پلے کارڈز ،شرکاء نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر جموں کشمیر میں جاری بھارتی مظالم بند کروانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کے عالمی دن پر اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی حقوق کا عالمی دن منانا اُس وقت تک زیب نہیں دیتا جب تک کشمیریوں پر بھارتی مظالم بند نہیں کروائے جاتے۔ وائس چیئرمین مشتاق الاسلام نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایک طرف عالمی برادری انسانی حقوق کا دن منا رہی ہے دوسری جانب بھارتی فورسز کشمیر کے چپے چپے پر کشمیریوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہی ہے کشمیر میں انسانیت کی بھرپور تذلیل کی جارہی ہے مگر اقوام عالم تماشائی بنے ہوئے ہیں، ہندوستان کی آٹھ لاکھ مسلح افواج نے کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کر کے رکھ دیا ہے ، کشمیریوں کے کھیت و کھلیان ختم کر کے معاشی طور پر کمزور کیا جارہا ہے، مذہبی قدغنیں لگائی جارہی ہیں، میڈیکل سہولت سے محروم کیا جارہاہے، کشمیری نوجوانوں کا مستقبل ان سے چھینا جارہاہے، جعلی فوج مقابلے میں نوجوانوں کو شہید کیا جارہاہے، تحریک کے متحرک کارکنوں کو چن چن کے شہید کیا جارہاہے، کاروبار زندگی مکمل مفلوج ہو گیا ہے، بچوں ، جوانوں اور بوڑھوں بالخصوص خواتین پر پیلٹ اور بلٹ کا بے دریغ استعمال کیا جارہاہے، مذہبی آزادی تک نہیں ہے کالے قوانین کا نفاذ دنیا کے ان منصفوں پر سوالیہ نشان ہے جو آج انسانی حقوق کا دن منا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کا عالمی دن اُسی وقت منایا جاسکتا ہے جبکہ پوری دنیا بالخصوص کشمیر کے عوام کو حق آزادی نہیں مل جاتا۔

 

انسانی حقوق کا عالمی دن 
آ رپار احتجاجی ریلیوں،مشعل بردار جلوسوں، اور سمیناروں کا ہتمام

سرینگر / 10دسمبر : انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقعہ پر مشترکہ مزا حمتی قیادت کی کال پر وادی میں ہڑتال سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ہڑتال کے دوران دکانیں اور تجارتی مراکز مقفل جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت پوری طرح متاثررہی جبکہ وکلاء نے عدا لتوں کے کام کاج سے مکمل بائیکاٹ کیا۔ امکانی احتجاج کے پیش نظر بانہال اور بارہمولہ کے درمیان چلنے والی ریل خدمات پیر کو معطل رکھی گئیں۔ سی این ایس کے مطا بق مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی،میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے مشترکہ مزاحمتی قائدین قائدین نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حقوق بشر کے عالمی دن کے موقعہ پر 10دسمبر کو مکمل اور ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال اور یوم سیاہ منانے کی اپیل کی تھی جس پر تمام دس اضلاع میں مکمل ہڑتا ل سے عام زندگی مفلوج ہوکے رہ گئی۔ہڑتال پر سرینگر کے سیول لائنز میں بیشتر دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے۔ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں کام کاج متاثر رہا البتہ نجی ٹریفک کی نقل وحر کت جاری تھی۔ سیول لائنز کے تمام تجارتی مراکز بشمول تاریخی لال چوک، بڈشاہ چوک، ریگل چوک، مائسمہ، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، بٹہ مالو، مولانا آزاد روڑ اور ڈلگیٹ میں دکانیں بند رہیں اور ہڑتال کے پیش نظر سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات رہی ۔ پائین شہر میں آج کوئی بندشیں عائد نہیں کی گئی ہیں‘۔اس دن کی مناسبت سے ممکنہ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے انتظامیہ نے سرینگر کی پریس کالونی کے روبرو واقع مشہور پرتاپ پارک کو مقفل رکھاجبکہ جامع مسجد کو مقفل رکھاگیا تھا۔ جامع مسجد کے باہر سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کر رکھی گئی ہے‘۔ تاریخی جامع مسجد کے علاقہ میں امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی بھاری جمعیت تعینات کی گئی تھی۔ سرینگر سمیت تمام قصبوں میں وکلاء نے عدا لتوں کے کام کاج سے مکمل بائیکاٹ کیا۔وادی کے تمام ضلع وتحصیل ہیڈ کوارٹروں میں دکانیں اور تجارتی مراکزبند رہے جبکہ مسافر گاڑیاں سڑکوں سے غائب رہیں۔ بیشتر تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ سرکاری دفاتراوربینکوں میں معمول کا کام کاج جزوی طورپرمتاثررہا۔ ہڑتال کی وجہ سے سرکاری دفاتروں میں ملازمین کی حاضری بہت کم رہی جبکہ بیشتر تعلیمی ادارے بند رہے۔ انسا نی حقو ق کے پامالیوں کے خلاف شمالی کشمیرکے بارہمولہ، بانڈی پورہ اور کپواڑہ اضلاع میں مکمل ہڑتال رہی۔ امن قانون کی صورتحال کے پیش نظر بارہمولہ، سوپوراور کپوارہ میں سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کر رکھی گئی تھی۔شمالی کشمیر کے ان بیشتر قصبوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت جزوی طورپرمتاثررہی۔ جنوبی کشمیر میں مکمل ہڑتا ل کے دوران دکانیں اورتجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پرگاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ تاہم جنوبی کشمیر سے گذرنے والی سری نگرجموں قومی شاہراہ پرگاڑیوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری رہی تاہم شاہراہ پر عام دنوں کے مقابلے میں سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی ۔ انسا نی حقو ق کے پامالیوں کے خلاف اننت ناگ، شوپیاں، کولگام اور پلوامہ میں مکمل ہڑتال کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ان اطلاعات کے مطابق جنوبی کشمیر میں بیشتر دکانیں بند رہیں۔ پلوامہ میں اور شوپیان میں مکمل ہڑتا ل سے عام زندگی مفلوج تھی۔اننت ناگ سے نمائند ے نے اطلاع دی ہے کہ ضلع میں ہڑتال سے معمول کی زندگی درہم برہم رہی ۔بجبہاڑہ ،اسلام آباد ،سیر ہمدان ،عشمقام ،دیلگام ،لارکی پورہ ،مٹن ،ڈورو اور دیگر قصبہ جات میں تمام دکانیں اور کارو باری ادارے بند رہے تاہم کئی روٹوں پر سومو گاڑیاں چلتی رہیں ۔ شمالی کشمیر کے تین اضلاع بارہمولہ، کپواڑہ ، بانڈی پورہ ، وسطی کشمیر کے دو اضلاع بڈگام اور گاندربل سے جزوی ہڑتال کی اطلاعات موصول ہوئیں۔بانڈی پورہ سے نمائند ے نے اطلاع دی ہے کہ قصبے میں مکمل ہڑتا ل رہی۔کولگام سے نمائندے اطلاع دی ہے کہ کیموہ ،کولگام ،کھڈونی اور دیگر علاقوں میں دکانیں بند تھیں اور ٹرانسپوٹ سروس معطل رہی ۔ ادھربارہمولہ کپوارہ اورشوپیان قصبہ جات سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وہاں دکانیں، تعلیمی اور تجارتی ادارے بند رہے ۔ وسطی ضلع بڈگام اور گاندربل کے اکثر بازاروں میں اگرچہ دکانیں بند تھے تاہم ٹرانسپورٹ جزوی طور جاری رہا ۔اس دوران سیکورٹی وجوہات کی بناء پر جموں خطہ کے بانہال اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ کے درمیان چلنے والی ریل خدمات پیر کو معطل رکھی گئیں۔ریلوے ذرائع نے بتایا کہ ریل خدمات کوہڑتال کال کے پیش نظر احتیاطی طور پر معطل کردیا گیا ہے۔ریلوے حکام نے بتایا کہ وسطی کشمیر کے بڈگام اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ کے درمیان چلنے والی تمام ٹرینوں کو معطل کیا گیا ہے۔ مذکورہ عہدیدار نے بتایاکہ اسی طرح بڈگام اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان براستہ جنوبی کشمیر تمام ٹرینیں منسوخ کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریل خدمات کی معطلی کا اقدام پولیس اور سول انتظامیہ کی جانب سے جاری ایڈوائزری پر عمل کے طور پر لیا گیا ہے۔

 

Comments are closed.