سرینگر 3 دسمبر : سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے سٹیٹ سبجیکٹ سرٹفکیٹ کے حوالے سے میڈیا میں آئے حالیہ رپورٹ کے تناظر میں کہا کہ اس طرح کے اقدامات نئی دلی کی اُن کاوشوں کا حصہ ہے جس کے تحت وہ جموں کشمیر میں سٹیٹ سبجیکٹ قوانین کو تبدیل کر کے یہاں کے آبادی کے تناسب کو بگاڑ کر اس ریاست کی متنازعہ ہیت و حیثیت کو مسخ کرنے کے درپے ہے۔ مشترکہ قیادت نے کہا کہ Doval Doctorine جو در اصل اسرائیل سے مستعار لیا گیا ہے کا مقصد کشمیریوں کی ذہنی، جسمانی، نفسیاتی اور معاشی غرض زندگی کے ہر شعبے پر ضرب لگا کر اُن پر شدید دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ تھک ہار کر اپنے جائز جد وجہد سے دستبردار ہوجائیں۔ لیکن نئی دلی اس حقیقت سے انکار کرتی نظر آتی ہے کہ بھارت نواز پارٹیوں اور گروپوں کی شکل میں اُن کے چاہے کتنے بھی ایسے حلیف یہاں موجود ہو ں جو اقتدار کی لالچ میں اُ ن کا ساتھ دیتے ہے لیکن کشمیر کے عوام ایک دو سال نہیں بلکہ پچھلی 3 دہائیوں سے ہندوستان کے انتہائی ظلم و ستم کا نہایت عزم و استقلال کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں اور وہ اپنے بنیادی حق سے ایک انچ بھی ہٹنے کو تیار نہیں ہیں ۔کچھ بھی ہو وہ اپنے اس عزم پرقائم و کاربند ہیں۔مشترکہ مزاحمتی نے کہا کہ یہ علاقی حلیف جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو ہندوستان کے اشاروں پر ناچتے ہیں لیکن جب اقتدار سے باہر ہوجاتے ہے توبالکل مختلف بولی بولتے ہیں اور عوامی جذبات کا استحصال کرکے انتخابی فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کشمیر کے عوام سیاسی طور بالغ ہیں اور وہ جانتے ہے کہ نئی دلی کے ان حربوں کا کیسے مقابلہ کیا جاتا ہے۔بھارت کے وزیر داخلہ کے بیان کہ ’’جموں کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے‘‘ کے بارے میں مشترکہ قیادت نے کہا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ اپنے بے تحاشہ فوجی قوت کے بل پر وہ ریاست جموں کشمیر کے علاقے پر تسلط جمائے ہوئے ہے لیکن وہ باخبر ہیں کہ عوامی رائے اس کے بالکل برعکس ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ جموں کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت کے بارے میں دئے گئے اپنے وعدے پر عمل کرنے سے انکاری ہیں اور اس بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ کو حل کرنے سے کتراتے ہیں۔ قیادت نے کہا کہ اٹوٹ انگ کی کتنی بھی گردان کی جائے مسئلہ کشمیر کی بنیادی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ دریں اثناء ترجمان نے محمد یاسین ملک کی مسلسل نظر بندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سید علی گیلانی کی مسلسل خانہ نظر بندی اور میرواعظ عمر فاروق کی آئے روز خانہ نظر بندی کو حد درجہ قابال افسوس قرار دیکر اس کی شدید مذمت کی ہے۔مشترکہ قیادت نے عوا م کے تمام طبقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف احتجاج کے ہفتے جو آج سے شروع ہوکر 9 دسمبر تک جاری ہے کے دوران بھر پور طریقے سے اپنا احتجاج درج کریں۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.