سرینگر 3 دسمبر : سوموار کی صبح شالٹینگ ایچ ایم ٹی سے ٹینگہ پورہ بائی پاس تک بدترین ٹریفک جام کے نتیجے میں سینکڑوں گاڑیاں کئی گھنٹوں تک درماندہ رہیں اور مسافروں کا دم گھٹ گیاجس دوران گاڑیوں میں سوار مسافروں کی ایک بڑی تعداد کئی کلو میٹر پیدل سفر کرنے پر مجبور ہوگئی۔اس صورتحال کی وجہ سے مختلف محکموں کے ملازمین بروقت اپنے دفاتر تک نہیں پہنچ سکے، طلاب بھی تعلیمی اداروں تک پہنچنے میں ناکام رہے جبکہ مریضوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑاہے۔سی این ایس کے مطابق سوموار کی صبح سخت سردی کے بیچ دھند سے اند ھیرا چھا گیا تھا جوشہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک جام کا سبب بنا۔سوموار کی صبح شا لٹینگ بمنہ ، ایچ ایم ٹی ،قمرواری میں ٹریفک جام کا سلسلہ شروع ہوگیا جس میں وقت گذرنے کے ساتھ ہی اضافہ ہوا اور بمنہ پائی پاس سے ایچ ایم ٹی کراسنگ تک آناً فاناً سینکڑوں گاڑیاں درماندہ ہوگئیں۔ جب گاڑیوں کی آمدورفت رک گئی تو بانڈی پورہ ، گلمرگ ، سوپور ، پٹن، ہندواڑہ ، کپواڑہ بارہمولہ اور صورہ راستوں سے آنے والی ہزاروں گاڑیاں رْک گئیں اور اسکے نتیجے میں ڈرائیوروں نے دیگرراستوں سے جاکر صورتحال کر مزید سنگین بنادیا۔ پارم پورہ کراسنگ پر اگر چہ ٹریفک پولیس کے کچھ اہلکار تعینات رہتے ہیں لیکن گاڑیوں کی بھاری تعداد کے سامنے وہ بے بس ہوکر رہ گئے ، دیکھتے ہی دیکھتے بمنہ ڈگر ی کالیج سے لیکر ٹینگہ پورہ چو ک اور پارم پورہ بس اڈے تک گا ڑیوں کی قطاریں سڑ کوں پر دیکھنے کو ملیں بعد میں یہ ٹریفک جام شہر کے ہمہا مہ ، حیدر پورہ اور دیگر علاقوں تک پھیل گیا۔ نمائندئے کے مطابق گا ڑ یوں میں سوار بچوں او ر کمزور خواتین پر گشی طاری ہو ئی۔اس صورتحال کی وجہ سے مختلف محکموں کے ملازمین بروقت اپنے دفاتر تک نہیں پہنچ سکے، طلاب بھی تعلیمی اداروں تک پہنچنے میں ناکام رہے جبکہ مریضوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جب کئی گھنٹوں تک مسافر بھی درماندہ رہے تو انہوں نے اپنی منزلوں پر پہنچنے کے لئے گاڑیوں سے اتر کر پیدل مارچ شروع کیا۔ ائر پورٹ سے بیرون ریاست جانے والے مسا فروں کو بھی پید ل چلتے دیکھا گیا ۔اس موقعہ پر سینکڑوں مسافروں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے ،نے بروقت اپنی منزلوں تک پہنچنے کیلئے پیدل سفر کیاجس کے نتیجے میں ان علاقوں میں پیدل چل رہے لوگوں کی بھاری بھیڑ کے غیر معمولی نظارے بھی دیکھنے کو ملے۔ بعد میں کئی گھنٹوں کے بعد فوجی اہلکار شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت بحال کرنے میں کامیاب ہوگئے لیکن تب تک مسافروں کے گھنٹوں ضائع ہوگئے تھے۔ شالٹینگ کے اس مقام پر آئے روز ہو رہے بڑ ھتے ٹر یفک جام پر تشویش ظاہر کرتے ہو ئے کہا کہ ٹریفک اہلکاروں کی غیر تسلی بخش کارکردگی اور ٹرانسپورٹروں کی من مانیوں سے اس قدر جام لگ جاتا ہے کہ کئی گھنٹے صرف ہوتے ہیں۔ جس کے دوران اسکولی بچوں ، سرکاری ملازمین کے علاوہ مریضوں کو ہر وقت زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ شمالی کشمیر سے سرینگر کے مختلف اسپتالوں میں علاج و معالجہ کیلئے مریضوں کو بے پناہ مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔کشمیر یونیورسٹی میں زیر تعلیم ایک طالب علم ساجد احمد نے بتایا کہ ’’ قمرواری میں روزانہ خاص کر صبح اور شام کے وقت گھنٹوں تک ٹریفک جام رہتا ہے اور گاڑیوں میں سوار ملازمین ،طلباء ور مریض بے بس ہوجاتے ہیں ‘‘۔انہوں نے بتایا کہ ’’مجھے کھبی کبھار یونیورسٹی کے بجائے واپس گھر لی راہ لینی پڑتی ہے کیونکہ ٹریفک جام میں پھنس جانے کی وجہ سے میرے کلاس چھوٹ جاتے ہیں
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.
Comments are closed.