سوپور میں شبانہ چھا پوں کے دوران چھ نوجوان حراست میں
سرینگر 3 دسمبر / سی این ایس/ فورسز پر ہوئے حالیہ حملوں کی گتھی سلجھا نے کادعویٰ کرتے ہوئے پولیس نے ترال اور کھر یو پانپور میں عسکریت پسندوں کے10 معاونین کو قابل اعتراض مواد سمیت گرفتارکرلیا ہے۔ادھرشمالی قصبہ سوپور میں فورسز نے چھاپہ کے دوران چھ نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں لائی ہے۔پولیس ذرائع نے سی این ایس کو بتایا کہ ترال میں حالیہ جنگجو حملوں کے بعد پولیس کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی تھی جس نے شواہد کی بنیاد پر چار افراد کو گرفتار کیا۔پولیس نے گرفتار شدگان کی شناخت یونس نبی نائیک ولد غلام نبی نائیک،ساکنہ پنگلش ترال،فیاض احمد وانی ولد غلام محی الدین وانی ساکنہ ریشی پورہ ترال،ریاض احمد گنائی ولد محمد رمضان گنائی ساکنہ نگین پورہ ترال اور بلال احمد راتھر ولد غلام رسول راتھر ساکنہ ہفو ترال کے طور کی ہے۔پولیس دعویٰ کے مطابق گرفتار شدگان کی پوچھ تاچھ کے بعد ترال میں فورسز پر ہوئے حالیہ حملوں کی گتھی سلجھ گئی ہے۔ ایک اور کا میابی کی تفصیلات دیتے ہوئے پولیس نے کہا کہ جنگجوؤں کا ایک اور نیٹ ورک کھریو پانپور میں بے نقاب کیا گیا جس کے دوران جیش محمد جنگجو تنظیم کے چھ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار شدگان کی شناخت جاوید بشیر وانی ولد بشیر احمد وانی ساکنہ بابا پورہ کھریو،طاہر یوسف لون ولد محمد یوسف لون ساکنہ کھریو،رفیق احمد بٹ ولد غلام احمد ساکنہ شار شالہ کھریو ، اور عمران نذیر ولد نذیر احمد نجار ساکنہ مندکپال کھریو کے طور کی ہے۔پولیس نے کہا کہ دونوں مقامات پر گرفتار شدگان سے بھاری تعداد میں قابل اعتراض مواد ضبط کیا گیا ہے جس میں جلا ٹین ،ڈیٹونیٹر، دھماکے تیار کرنے کا سامان اور گرینیڈ شامل ہیں۔ پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کی ہے۔ ادھر فورسز کی بھاری نفری نے دوران شب قصبہ سوپور کے ناوپورہ اور آرم پورہ کو محاصرے میں لیکر تلاشی کاروائی عمل میں لائی ہے۔ اہلکار چْن چْن کر بعض رہائشی مکانوں میں داخل ہوئے اور نوجوانوں کی گرفتاریاں عمل میں لانے کا آغاز کیا۔اس موقعے پر فورسز نے چھ نوجوانوں کو حراست میں لیا اور جب انہوں نے گرفتار شد گان کو گا ڑی میں بھر نا شروع کر دیا تومقامی مردوزن کی ایک بڑی تعداد گھروں سے باہر نکل آئی اور احتجاجی مظاہرے شروع کئے۔پولیس کے ایک اعلیٰ آفیسر نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے سی این ایس کو بتایا کہ گرفتار شدگان قصبہ میں امن وقانون بگاڑنے میں ملوث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نوجوان پولیس کو سنگباری کے متعدد واقعات میں پولیس کو انتہائی مطلوب بھی تھے۔
Comments are closed.