نیشنل کانفرنس خواتین ونگ کا اجلاس، وادی میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں جاری / شمیمہ فردوس

سرینگر/03دسمبر: مرکزی اور ریاست حکومت یہاں کے حالات کو جان بوجھ کر خراب کرنے کی مرتکب بھی ہوئی ہیں، آج کے دور میں بھی انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں جاری ہیں اور صنف نازک کو بھی نہیں بخشا جارہا ہے۔ سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس خواتین ونگ کی ریاستی صدر شمیمہ فردوس نے آج پارٹی ہیڈکوارٹر پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ سابق پی ڈی پی بھاجپا حکومت نے جن مظالم کی شروعات کی تھی وہ آج تک تھمنے کا نام نہیںلے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ4سال سے لگاتار جنازے اُٹھ رہے ہیں ، لوگ زخمی ، اپاہج اورنابینا ہورہے ہیںاور صنف نازک کو بھی نہیں بخشا جارہا ہے۔ شمیمہ فردوس نے کہا کہ اب خواتین بھی گولیوں اور پیلٹ سے محفوظ نہیں۔ گذشتہ دنوں ہی ایک ڈیڑھ سال کی بچی آنکھ میں پیلٹ لگنے سے زخمی ہوئے اور یہ بچی آنکھ کی بینائی سے بھی محروم ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ صرف گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ایک درجن کے قریب خواتین گولیوں کی زد میں آکر اپنی جان گھنوا بیٹھی اور بے شمار خواتین زخمی ہوئیں۔ پیلٹ کے قہر سے کئی بچیاں اپنی ایک یا دونوں آنکھیں کھو بیٹھی۔
گورنر انتظامیہ کے طریقہ کار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شمیمہ فردوس نے کہاکہ ایسا محسوس ہورہاہے ہے کہ ریاستی انتظامی کونسل کے فیصلے ناگپور سے ہوکر آتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جے کے بینک کو پی ایس یو کے دائرے میں لانے کا فیصلہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے گورنر کو ایسے فیصلوں اور اقدامات سے اجتناب کرنا چاہئے جو جموںوکشمیر کے مفادات کے خلاف ہوں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ صوبہ کشمیرخواتین ونگ انجینئر صبیہ قادری نے وادی میں جاری بجلی کے بدترین بحران پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ گورنر انتظامیہ بجلی کی سپلائی پوزیشن بہتر بنانے میں سنجیدہ نظر نہیں آرہی ہے جبکہ عام لوگ اس غفلت شعاری اور نااہلی سے مختلف نوعیت کے مشکلات و مصائب سے دوچار ہیں۔ نے کہا ہے کہ بجلی سپلائی کی ابدتر صورتحال کے باوجود بھی حکومت سپلائی پوزیشن بہتر بنانے کیلئے کچھ نہیں کررہی ہے۔ انہوں نے عام لوگوں کے مشکلات میں ہر روز ہورہے اضافے پر تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ خواب غفلت میں پڑی ہے ،عوام کا کوئی پُرسانِ حال نہیں، بجلی اور پینے کا صاف پانی نایاب ہے، راشن ، پانی ، بجلی اور دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی ہر گزرتے دن کے ساتھ بد سے بدتر ہورہی ہے جبکہ تعمیر و ترقی کے کاموں کی رفتار بھی ماند پڑگئی ہے۔

Comments are closed.