بلاک میڈیکل آ فیسرکے تبادلے کی مانگ، پٹن میں ہڑتال سے عام زندگی مفلوج۔ سرینگر مظفر آ باد روڈپر دھرنا

سرینگر 30 نومبر : بلاک میڈیکل آ فیسرکے تبادلے کے مطالبے کو لیکرپٹن میں جمعہ کو ہڑتال سے کاروباری اور تجارتی سرگر میاں ٹھپ رہیں جبکہ لوگوں نے اس فیصلے کے خلاف سرینگر مظفر آ باد روڈپر دھرنا د یکرمطالبہ پورا نہ کر نے کی صورت میں آ ج سے غیر معینہ عرصے کی بھوک ہڑتا ل کی دھمکی دی ہے۔ سی این ایس کے مطابق اس سلسلے میں ٹریڈرس یونین پٹن کی کال پر پٹن میں تمام دکانیں ،کاروباری اداروں اور تجارتی مراکز میں تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں تاہم سرینگر بارہمولہ شاہراہ پر ٹریفک کی روانی جاری تھی۔ احتجاج کے دوران مقامی تاجر اور سیول سوسائٹی پٹن کے اراکین سرینگر ،مظفر آباد شاہراہ پر جمع ہوئے جہاں انہوں نے بلاک میڈیکل آ فیسر ڈاکٹر مسرت اقبال وانی کے تبا دلے کولیکر زور دار ا حتجاج کیا ہے۔ ٹریدروں نے کہا کہ مذ کورہ بی ایم اؤ سیاستدانوں کے اشاروں پر ناچ رہا ہے جس کی وجہ سے قصبہ میں محکمہ صحت کا سارا نظام مفلوج ہو کے رہ گیا ۔ احتجاجی ٹریڈرس یونین کے عہدداروں کا کہنا ہے کہ ٹراما اسپتال کی تعمیر کامقصد سرینگر ،مظفر آباد شاہراہ پر حادثات میں زخمی ہونے والے لوگوں کا علاج معالجہ کرانا تھا لیکن یہاں سب ضلعی اسپتال کو منتقل کرنا ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ تاجروں کے مطابق سب ضلعی اسپتال کیلئے الگ نگران مقررر کیا جائے اور اس کو ٹراما اسپتال سے علیحد ہ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں موجود سب ضلع اسپتال کو ٹراما اسپتال میں ضم کیا جارہا ہے ۔ پٹن کے سماجی کارکن سلیم فاروق نے مانگ کہ سب ضلع اسپتال ماضی کی طرح اپنی ہی جگہ کام کرنا چاہئے کیونکہ یہ اسپتال دہا ئی پہلے تعمیر ہواتھا اور یہاں عام مریضوں کی آ سان رسائی ہے ۔مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ بی ایم او پٹن عوامی مفادات اور احساسات کے مخالف کام کررہے ہیں ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبہ پورا نہیں کیا گیا تو وہ کل سے بھوک ہڑتا ل پر جائیں گے اور ہڑتال جاری رہے گی۔

Comments are closed.