آر پار تجارت میں ایک اور نیا تنازعہ کھڑا ،جمعہ کے روز دو طرفہ تجارت ایک مرتبہ پھر معطل ہو گئی

سرینگر/30نومبر/: پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی ٹریول اینڈ ٹریڈ اتھارٹی کی جانب سے جموںو کشمیر سے جانے والے مرچ بیج کی گاڑیوں کی تعداد محدود کرنے کے بعد جوابا وادی کشمیر کی ٹریڈ اتھارٹی نے پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے جانے والی کارپٹ پر مکمل طور پر پابندی عائد کرتے ہوئے کارپٹ کے ٹرکوں کو وادی کشمیر میں داخل ہونے سے روک دیاجبکہ جموں و کشمیر سے جانے والے پائین ایپل پربھی پابندی عائد کر نے کے باعث پیدا ہو نے والے تنازعہ کی وجہ سے جمعہ کے روز دو طرفہ تجارت معطل ہو گئی ۔سی این آئی کے مطابق تقریبا تین ہفتے قبل ٹریول اینڈ ٹریڈ اتھارٹی پاکستانی زیر انتظام کشمیر نے وادی کشمیر سے جانے والے مرچ بیج کے ٹرکوں کی تعداد فی دن پانچ کر دی تھی جس کے جواب میں کشمیر کی ٹریڈ اتھارٹی نے اس پا رکشمیر سے آنے والے کارپٹ کو نان ٹریڈ ایبل آئیٹم قرار دیتے ہوئے اس پر مکمل طور پر پابندی عائد کرتے ہوئے جموں و کشمیر آنے والے ٹرکوں کو لائن آف کنٹرول کراس کرنے سے روک دیا اور کشمیر سے اُس پار کشمیر آنے والے پائین ایپل پر بھی پابندی لگادی گئی وادی کشمیر کی ٹریڈ اتھارٹی کی جانب سے کارپٹ اور پائین ایپل پر پابندی کے باعث تاجر سراپا احتجاج ہیں اور انھیں بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا وادی کشمیر کی ٹریڈاتھارٹی کی جانب سے پائین ایپل کو اُس کشمیر بھیجنے سے روکنے پر پیدا ہونے ہونے والے تنازعہ کے باعث جمعہ کے روز سرینگر مظفرآباد تجارت معطل ہو گئی جس کے باعث درجنوںمال بردار ٹرک لائن آف کنٹرول کراس نہ کر سکے دونوں اطراف کے تاجروں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس طرح کی پابندیاں لگانا بند کریں تانکہ دو طرفہ تجارت میں کمی کے بجائے اضافہ ممکن ہو تاجروں کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کی پابندیوں سے دن بدن تجارت اور آرپار کے عوام کے درمیان رابطوں میں کمی ہو رہی ہے جو تاجروں کے لیے باعث تشویش ہے

Comments are closed.